امارات-اسرائیل معاہدے کے بعد ٹرمپ پھر نوبیل انعام کیلئے نامزد

امارات-اسرائیل معاہدے کے بعد ٹرمپ پھر نوبیل انعام کیلئے نامزد 109

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کا معاہدہ کروانے پر ناروے کے رکن پارلیمنٹ کرسچن ٹیبرنگ یدا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اگلے برس کے نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کر دیا۔

نوبیل انعام کی نامزدگیوں کے لیے آخری تاریخ 31 جنوری 2021 ہے اور امن انعام کا اعلان 9 اکتوبر 2021 کو کیا جائے گا۔

مزید پڑھیے: ’نوبل انعام کا حقدار میں ہوں‘، ٹرمپ

ناروے کے ان ہی رکن پارلیمنٹ نے شمالی کوریا سے سفارتی تعلقات کی کوششوں پر 2019 میں بھی ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کیا تھا۔

علاوہ ازیں کرسچن ٹیبرنگ یدا عراق سے امریکی فوجوں کو نکالنے پر رواں برس بھی ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کر چکے ہیں۔

واضح رہے کہ ارکان پارلیمنٹ، حکومتی ارکان، یونیورسٹی پروفیسرز اور سابق نوبیل انعام یافتہ افراد نوبیل کے لیے نامزدگیاں کرنے کے اہل ہوتے ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق کرسچن ٹیبرنگ یدا کہتے ہیں کہ ٹرمپ کو یو اے ای اور اسرائیل کے درمیان معاہدے میں کردار ادا کرنے پر نامزد کیا، یہ واقعی ایک منفرد معاہدہ تھا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت میں نکالی گئی کشتیوں کی پریڈ میں شامل کشتیاں ڈوب گئیں

واضح رہے کہ خود ڈونلڈ ٹرمپ بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ انہیں نوبیل انعام ملنا چاہیے۔

ایک مرتبہ انھوں نے کہا تھا کہ شمالی کوریا اور شام کے سلسلے میں کام کرنے پر وہ امن کے نوبیل انعام کے حق دار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر انصاف سے فیصلہ کیا جائے تو مجھے کئی چیزوں کی وجہ سے نوبیل انعام مل سکتا ہے تاہم ایسا نہیں ہورہا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں