اُلجھے ہوئے تعلق کو سُدھارنے کے 7 طریقے

اُلجھے ہوئے تعلق کو سُدھارنے کے 7 طریقے 112

دو افراد کے درمیان کسی ایک چیز یا معاملے پر اختلافات ہو سکتے ہیں جنہیں زیادہ دیر تک ذہن میں رکھنے کے بجائے جَلد سلجھانا یا بھلا کر آگے بڑھنا چاہیے، اگر آپ بھی ایسی ہی صورتحال کا شکار ہیں تو یہ ’احساسات اور جذبات ‘ پر مبنی یہ ہیلتھ رپورٹ کسی حد تک مدد گار ثابت ہو سکتی ہے۔

ماہرین نفسیات کے مطابق اُلجھے ہوئے تعلقات کے سبب انسانی مجموعی صحت اور ذہنی کارکردگی پر گہرا منفی اثر پر سکتا ہے، یہاں سمجھنے کی ضرورت یہ ہے کہ ہر رشتہ ایک ہی صورتحال کا شکار نہیں ہوسکتا، چند رشتوں سے چھٹکارہ حاصل کرنا ہی زندگی میں سکون کا سبب بنتا ہے جبکہ چند اُلجھے ہوئے رشتوں کی نوعیت دیکھتے ہوئے اُنہیں سلجھا کر ایک بہتر زندگی کا آغاز کیا جا سکتا ہے ۔

ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ کسی بھی رشتے کو بچانے کے لیے اُس رشتے میں جڑے دو مرکزی افراد پر انحصار کرتا ہے کہ وہ کیا چاہتے ہیں، کسی ایک کی جانب سے رشتہ بچانا یا تا دیر بچائے رکھنا نا ممکن سی بات ہے جو کہ جذباتی طور پر اعصاب شکن اور مشکل ترین کام بھی ہے۔

اسی لیے ذہنی صحت اور سکون کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے رشتوں پر توجہ دے، اُنہیں ٹھیک رکھنے کی کوشش کرے یا اُلجھےاور بگڑے ہوئے رشتے کو مزید وقت دیئے بغیر آگے بڑھ جائے ۔

اُلجھے اور ناخوشگوار تعلق کو بہتر بنانے کے لیے ماہرین نفسیات کی جانب سے تجویز کی گئی 7 ٹپس مندرجہ ذیل ہیں :

اُلجھے ہوئے رشتے کو سلجھانے کے لیے ایک دوسرے کو وقت دیں اور بات کریں، تنازعات کو نظر انداز کرنے کے بجائے اُس کا کھُل کر اظہار کریں، اپنی رائے سے متعلق بتائیں اور اپنے پارٹنر کو اُسے مکمل سنیں اور تنازعات کو کھینچنے کے بجائے حل پر بات کریں ۔

خود کی جانب سے ہونے والی غلطی کو مانیں اور اُس کے ازالے سے متعلق سوچیں، بات کریں اور اپنے پارٹنر سے پوچھیں، غلطی کے سبب ہونے والی اپنے پارٹنر کی تکلیف سے متعلق بات کریں۔

اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے اسے آئندہ نہ دہرانے کے فیصلے سے متعلق بات کریں، اپنی غلطی کا ملبہ کسی پر ڈالنے کے بجائے خود کو اپنے پارٹنر کے سامنے معروض الزام ٹھہرائیں اور اپنے رویئے کا خود احتساب کریں۔

خراب یا اُلجھے ہوئے رشتے کا الزام ایک دوسرے پر لگانے سے بہتر ہے کہ ایک دوسرے کو بہتر اور زیادہ سے زیادہ جاننے کی کوشش کریں، ایک رشتے میں بندھے دو فرد ہی ایک نا خوشگوار تعلق کو بہتر اور قابل برداشت بنا سکتے ہیں، جتنا ایک دوسرے کو جانیں گے اتنا ہی رشتہ خوشگوار ہوتا چلا جائے گا۔

ماضی میں جینے والے اور چھوٹی چھوٹی باتوں، جھگڑوں، لڑائیوں اور ناچاکیوں کو تا دیر ساتھ لے کر چلنے والے افراد کسی بھی رشتے میں کامیاب نہیں ہو سکتے ہیں ، وہ رشتہ چاہے بہن بھائی، میںاں بیوی یا اولاد والدین کا ہو، ماضی میں ہوئی نا پسندیدہ اور نا خوشگوار واقعات کو بھلا کر ہی آگے بڑھا جا سکتا ہے، اسی عمل کے ذریعے ہر رشتے کو بچانا ممکن ہے ۔

اگر آپ واقعی رشتہ بچانے کے لیے تیار ہیں اور چاہتے ہیں کہ پیچھے کی ناگوار باتیں بھلا کر آگے بڑھا جائے تو ماہرین نفسیات تجویز کرتے ہیں کہ تہہ دل سے رشتہ جوڑے رکھنے سے متعلق گرم جوشی اور اپنی منشا کا اظہار کریں، ناچاکیوں ، تنازعات، ناخوشگوار باتوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے آگے کی جانب گرم جوشی سے بڑھیں اور خوشیوں کا بانہیں کھول کر استقبال کریں۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں