اُمید ہے کراچی پیکیج صرف اعلان نہیں اس پر عمل بھی ہوگا، خالد مقبول

اُمید ہے کراچی پیکیج صرف اعلان نہیں اس پر عمل بھی ہوگا، خالد مقبول 121

رہنما ایم کیو ایم پاکستان خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ ہمیں اُمید ہے کراچی پیکیج صرف اعلان نہیں ہے بلکہ اُس پر عمل بھی ہوگا۔

کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس کی، جس میں وسیم اختر، کنور نوید جمیل، خالد مقبول صدیقی اور فیصل سبزواری موجود تھے۔ اس دوران خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ اللّٰہ کا شکر ہے کہ ایک قومی اتفاق رائے تو ہوا ہے، ایم کیو ایم کو مینڈیٹ حاصل ہے۔

خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ایم کیو ایم نے کراچی پیکیج کو خوش آمدید کہا ہے، کئی بار کراچی کے لیے اعلانات ہوئے لیکن ہوا کچھ نہیں، اس مرتبہ عوام کو اُمید ہے اور دعا ہے کہ کراچی پیکیج پر یقین بھی آجائے۔

انہوں نے کہا کہ ہم کراچی پیکیج کےاعلان پر شک و شبہات کا اظہار نہیں کرنا چاہتے، ہمیں اُمید ہے کہ کراچی پیکیج صرف اعلان نہیں اس پر عمل بھی ہوگا، کراچی سے لینے کاحق سب کا ہے مگر دیتا کوئی نہیں۔

رہنما ایم کیوایم پاکستان نے کہا کہ کیاوجہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے کراچی کی منتخب بلدیاتی حکومت کو پیکیج نہیں دیا، وزیراعظم کو کراچی پر 1100 ارب لگانے تھے تو منتخب بلدیاتی حکومت کے ذریعے لگاتے، خدشات نے یقین کی صورت اختیار کرلی جب ایڈمنسٹریٹر کا تعین ہوا۔

انہوں نے کہا کہ یہ ثابت کیاجارہا ہے کہ سندھ میں نہ کسی کو تعلیم، نہ نوکریاں، نہ ترقیاں ملیں گی، وفاق نے فیصلہ کیا کہ اتحادی حکومت کے بجائے کرپشن کی تاریخ رکھنے والی حکومت سے ترقی کروائے گی، آپ نے اگر یہ پیسے لگانے تھے تو ان کے ذریعے لگاتے جو اس شہر کو جانتے ہیں۔

اُن کا کہنا ہے کہ ہمیں تعنے دیے جارہے ہیں کہ ہم کیوں خاموش ہیں، سندھ کے شہری علاقوں میں کیوں لسانی بنیادوں پر تعیناتیاں کی گئیں، مجھے نہیں لگتا کہ فیصلہ وزیر اعظم پاکستان کا ہے۔

خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پاکستان کی ترقی اس شہر کی ترقی سے وابستہ ہے، جو صوبے کو غداری کہہ رہے ہیں وہ سب سے بڑی غداری ہے، یہ لوگ صوبے کو ایک ایڈمنسٹریٹیو یونٹ نہیں سمجھتے ہیں، صوبہ ملک کا حصہ ہے اور ایک ایڈمنسٹریٹیو یونٹ ہے۔

پورے سندھ میں آپ کو ایک اردو بولنے والا نہیں ملا کوئی اتنا پڑھا لکھا نہیں تھا؟ ایس تھری مکمل نہ ہونے کی وجہ سے کراچی میں تباہی ہوئی، میئر کراچی سے نکاسی آب کی ذمہ داری لے کر صوبائی حکومت نے اپنے پاس رکھی۔

انہوں نے کہا کہ بدقسمتی اس شہر کی ہے کہ اس صوبے میں پیپلزپارٹی کی حکومت آگئی، جب جب مینڈیٹ ایم کیوایم کو ملا لوگ اسی دور کو یاد کرتے ہیں، ایم کیوایم کے مینڈیٹ کے دور کو ہی پورا پاکستان ترقی سے یاد کرتا ہے۔

پیپلزپارٹی نے کوٹے سسٹم کے نام پر سندھ کو شہری و دیہی میں تقسیم کردیا، سندھ کو پیپلز پارٹی نے دو حصوں میں تقسیم کردیا ہے، لسانی بنیادوں پر سندھ میں ایڈمنسٹریٹر کی تعیناتی نے لسانیت کو مزید ہوا دی۔

رہنما ایم کیو ایم پاکستان نے کہا کہ صوبے کو بھی ڈسٹرکٹ کی طرح آبادی کی بنیاد پر تقسیم ہونا چاہیے، کراچی کے ڈسٹرکٹ بناکر کیا یہ کہہ سکتے کہ کراچی تقسیم ہوگیا؟ کیا پیپلزپارٹی لاڑکانہ سے کبھی اردو بولنے والے کو جتوا سکتی ہے؟

انہوں نے مزید کہا کہ جو ترقیاتی کام ہونے جارہیں اس کے لیے دعاگوں ہیں اور ساتھ بھی دیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں