آرزو کو علی اظہر سے ملاقات کی اجازت نہیں ہوگی، عدالت

آرزو کو علی اظہر سے ملاقات کی اجازت نہیں ہوگی، عدالت 39

نو مسلم آرزو راجا کیس میں عدالت نے تحریری حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ آرزو کو علی اظہر اور اس کے رشتے داروں سے ملاقات کی اجازت نہیں ہوگی۔

عدالت نے آرزو کی جانب سے دائر تحفظ کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ آرزو کے بیان کے بعد مقدمے میں اغواء کی دفعات شامل نہ کی جائیں، درخواست گزار نے والدین کے پاس جانے سے انکار کیا، تمام شواہد کے مطابق آرزو کی عمر 13 سے 14 سال ہے۔

عدالت نے اس کیس میں مفرور ملزمان کو گرفتار کرنے کے لیے تمام کوششیں کرنے کا حکم دے دیا۔

تحریری حکم کے مطابق آرزو کم عمری کے باعث علی اظہر کے ساتھ نہیں جاسکتی، اس کو فی الحال دارالامان میںہی رکھا جائے اور کم عمری کے باعث محکمہ سوشل ویلفئیر آرزو کی دیکھ بھال کا مکمل خیال رکھے۔

عدالت نے کہا کہ محکمہ سوشل ویلفیئر کی خاتون ملازمہ کو آرزو کی دیکھ بھال پر تعینات کیا جائے، عدالت نے حکم دیتے ہوئے مزید کہا کہ محکمہ سوشل ویلفیئر کی خاتون ہفتے میں ایک بار آرزو سے ملاقات کرے۔

عدالت نے تحریری حکم میں کہا کہ لڑکی کو اجازت ہوگی کہ اپنی مرضی کے مطابق جس سے چاہے ملاقات کرسکتی ہے۔

درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ وفاقی قانون میں شادی کی عمر اٹھارہ سال مقررنہیں کی گئی ہے، درخواست گزار کے وکیل کے مطابق صوبائی قانون پر وفاقی قانون کو فوقیت حاصل ہے۔

عدالت نے کہا کہ ہماری نظر میں اس معاملے کو کسی مناسب فورم پر اُٹھایا جاسکتا ہے،ایسے فورم پر جہاں اس مسئلے کو حل کیا جاسکے، اس کے لیے تمام متعلقہ قوانین کو مد نظر رکھنا ہوگا، 18 ویں ترمیم کے بعد صورتحال بدل چکی ہے۔

عدالت نے آرزو کی جانب سے دائر درخواست نمٹادی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں