بھارت: گاؤں کو پانی پہنچانے کیلئے ایک شخص نے اکیلے 3 کلومیٹر طویل نہر کھود دی

بھارت: گاؤں کو پانی پہنچانے کیلئے ایک شخص نے اکیلے 3 کلومیٹر طویل نہر کھود دی 124

ھارت کے ایک گاؤں میں اپنے لوگوں کو پانی پہنچانے کے لیے ایک شخص گزشتہ 30 سال کے طویل عرصے میں تن تنہا تین کلومیٹر طویل نہر بنا ڈالی۔

غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بھارتی ریاست بِہار کے ایک گاؤں میں لنگی بھوئیاں نامی اس ریٹائرڈ شخص نے اپنے گاؤں والوں کے لیے اپنی زندگی کے 30 سال لگادیے۔

اس شخص نے تین دہائیوں میں بغیر کسی مشینی مدد کے تین کلومیٹر طویل کینال کھود دی جس کے بعد اس شخص کو ’کینال مین‘ کے نام سے بھی پہچانا جانے لگا۔

بِہار کے ضلع گایا کے ایک دور دراز کے گاؤں کوٹھی لاوا کے باسیوں کو ہمیشہ ہی پانی کی قلت کا سامنا رہا ہے، اس کے قریب موجود پہاڑوں سے بارش کا پانی بہہ کر قریبی دریا میں جاگرتا ہے۔

ایسے میں یہاں کے بسنے والوں کو دوسری جگہ منتقل ہونے کا فیصلہ کیا لیکن لنگی بھوئیاں نے اپنی جگہ چھوڑنے کے بجائے اس مسئلے کو ہی حل کرنے کا فیصلہ کیا اور سارا معاملہ اپنے ہاتھ لیا۔

اس شخص نے پہاڑوں سے بہتے پانی کو گاؤں کے ایک تالاب میں لانے کے لیے تین کلومیٹر طویل، 4 فٹ چوڑی اور 3 فٹ گہری نہر کھود دی، جبکہ اس کے لیے کسی نے اس کی مدد بھی نہیں کی۔

اس شخص نے مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھے یہ نہر بنانے میں 30 سال کا عرصہ لگا، میں اپنے جانوروں کو جنگل لے کر جاتا اور پھر وہاں نہر کھودنے کا کام کرنے لگتا۔

لنگی بھوئیاں نے کہا کہ کوئی گاؤں والا بھی یہ کام کرنے کے لیے میرے پاس نہیں آیا اور سب اپنی زندگی گزارنے کے لیے شہروں کی طرف چلے گئے۔

مذکورہ علاقہ گھنے جنگلوں پر مشتمل ہے، اس کے قریب پہاڑ بھی موجود ہیں اور بارشوں کے موسم میں پہاڑوں پر برسنے والا سارا پانی دریا میں گرجاتا ہے۔

تاہم جب سے اس گاؤں کے لیے نہر تیار ہوئی ہے تب سے پانی اس تالاب میں جمع ہوجاتا ہے، یہ پانی جانوروں کے ساتھ ساتھ آبپاشی کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔

نہر کا کام مکمل ہونے کی خبر میڈیا پر نشر ہونے کے بعد مہندرا گروپ کے چیئرمین آنند مہندرا نے لنگی بھوئیاں کو ایک ٹریکٹر تحفے میں دے دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں