ججز کے ہاتھ آئین اور قانون سے بندھے ہیں: جسٹس فیصل عرب

95

سپریم کورٹ کے آج ریٹائر ہونے والے جج جسٹس فیصل عرب کہتے ہیں کہ ججز کے ہاتھ آئین اور قانون سے بندھے ہوتے ہیں۔

سپریم کورٹ کے جج فیصل عرب آج اپنی ریٹائرمنٹ کے موقع پر سپریم کورٹ آف پاکستان میں منعقد ہونے والے فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ بیگم کے مشورے سے 1989ء میں وکالت کی ڈگری حاصل کی، 1989ء میں ہی مرحوم فخرالدین جی ابراہیم کی لاء فرم میں انٹرن شپ کی۔

جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ 1990ء سے 2000ء تک فخرالدین جی ابراہیم کے ساتھ کام کرنا میری زندگی کا بہترین دور تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ مرحوم صبیح الدین احمد نے بطور چیف جسٹس مجھے جج ہائی کورٹ بننے کی پیشکش کی، میں نے قانون کے پیشے میں 15 سال بطور وکیل اور 15 سال بطور جج کام کیا۔

جسٹس فیصل عرب کا یہ بھی کہنا ہے کہ میں نے سینئر ججز اور ان کے فیصلوں سے رہنمائی حاصل کی، کوئی انفرادی شخص ادارے سے بڑا نہیں ہوتا،عدلیہ بطور ادارہ آئین اور قانون کے تحت ہی کام کرتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں