خصوصی پارلیمانی کمیٹی کورونا کا اجلاس25نومبر کو طلب،اپوزیشن کا بائیکاٹ

خصوصی پارلیمانی کمیٹی کورونا کا اجلاس25نومبر کو طلب،اپوزیشن کا بائیکاٹ 75

اسلام آباد(طاہر خلیل)اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے خصوصی پارلیمانی کمیٹی برائے کورونا وائرس کا اجلاس بدھ 25نومبر کو پارلیمنٹ ہائوس میں طلب کیاہے۔اپوزیشن نے اس کا بائیکاٹ کردیا، اپوزیشن نے اسپیکر کو مراسلہ ارسال کیا کہ کوئی بھی پارلیمانی کمیٹی ایوان میں تحریک کی منظوری کے بغیر نہیں بنائی جاسکتی،اجلاس کی صدارت سپیکر کریں گے،اجلاس میں وفاقی وزراء، قومی اسمبلی اور سینٹ میں پارلیمانی رہنماؤں کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے، چیئرمین این ڈی ایم اے اور سی او ایس نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول اتھارٹی کو بھی مدعو کیاگیا ہے،کورونا وائرس کے تناظر میں قومی اسمبلی کے اجلاس سے متعلق معاملات پر غورکیا جائے گا۔ پارلیمانی کمیٹی کو کورونا وائرس کی موجودہ صورتحال پر بریفنگ دی جائے گی،اپوزیشن نے اجلاس کا بائیکاٹ کرتے ہوئےموقف اختیار کیا ہےکہ قواعد وضوابط کے تحت سپیکر ایوان کی پیشگی منظوری کے بغیر کسی پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ نہیں ہوسکتے، شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ سپیکر صرف فنانس کمیٹی کا سربراہ

ہوتا ہے ،کوئی بھی پارلیمانی کمیٹی ایوان میں تحریک کی منظوری کے بغیر نہیں بنائی جاسکتی،سپیکر کو خواجہ آصف ،رانا تنویر ،سردار اختر مینگل ، شاہدہ اختر علی، نوید قمر اور ایاز صادق کی جانب سے ایک مشتر کہ مراسلہ بھیجا گیا تھا ،جس میں قومی اسمبلی کی کارروائی کو پارلیمانی روایات اور قواعد سے چلا نے کےلیے اپوزیشن نے تجاویز پیش کی تھیں، سپیکر نے اپنے جوابی مراسلے میں اپوزیشن پر واضح کیا کہ عوامی اہمیت کے کسی بھی معاملے پر ایوان میں بحث کے لیے اپوزیشن کے ساتھ حکومت کے ایک رکن کو خطاب کا موقع دیا جا رہا ہے ،جو پارلیمانی روایت کے مطابق ہے جبکہ اپوزیشن کا موقف تھاکہ اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے کسی معاملے پر اپوزیشن ارکان کی تقریروں کے بعد حکومت کی طرف کسی وزیر یا سرکاری رکن کو جواب کا موقع فراہم کیا جا ئے، کورونا پر بحث کرنی ہے تو اسمبلی میں بات کریں ایشوز کو پارلیمنٹ میں زیر بحث لائیں اور وہیں فیصلے کریں۔اپوزیشن نے سپیکر کے جواب پر یہ بھی موقف اپنایا ہےکہ آئندہ کسی زیر حراست رکن کے لیے پر وڈکشن آرڈرجاری کرنے کی درخواست نہیں کی جا ئے گی،شاہد خاقان عباسی نےکہاکہ سپیکر نے پارلیمانی قومی سلامتی کا اجلاس بلایا ،یہ مذاق نہیں تو اور کیا تھا کہ این ایس سی میں لیڈر آف دی ہائوس (وزیر اعظم ) اور لیڈر آف دی اپوزیشن کو بلا یاہی نہیں تھا ،اسی طرح سینٹ سے لیڈر آف دی ہائوس (قائد ایوان) کو بلایا گیا اور اپوزیشن لیڈر ( راجہ ظفر الحق ) کو نہیں بلایا گیا تھا ،پھر ایسے اجلاس میں ہم کیوں جا تے ِ؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں