سشانت کی موت سے متعلق لیک آڈیو نےحتمی رپورٹ پر سوالات اُٹھا دیے

سشانت کی موت سے متعلق لیک آڈیو نےحتمی رپورٹ پر سوالات اُٹھا دیے 94

آنجہانی بھارتی ہیرو سشانت سنگھ راجپوت کی آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمز) کے ڈاکٹر وں کی جانب سے تشکیل دی گئی حتمی رپورٹ پر میڈیا اور سُشانت کے خاندانی وکیل نے سوالات اٹھا دیئے ہیں ۔

سُشانت سنگھ راجپوت کی خود کشی پر دوبارہ نئے سرے سے پوسٹ مارٹم رپورٹ مرتب کرنے والے ڈاکٹر سدھیر گپتا کی پرانی آڈیو بھارتی میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس میں اُن کا کہنا تھا کہ ’اُنہیں سشانت سنگھ کی تصاویر دیکھ کر خودکشی کے بجائے سُشانت کی موت 200 فیصد قتل معلوم ہو رہی ہے۔‘

بھارتی میڈیا کے مطابق آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمز) کے سربراہ ڈاکٹر سدھیر کی جانب سے سی بی آئی میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں قتل کا مفروضہ مسترد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سُشانت سنگھ راجپوت کی موت ایک خود کشی تھی۔

سدھیر گپتا کے بیان پر بھارتی میڈیا اور سُشانت سنگھ کے خاندانی وکیل ویکاس سنگھ کی جانب سے سوالات اٹھا دیئے گئے ہیں ۔

سشانت سنگھ راجپوت کے وکیل کا سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک ٹوئٹ میں ایمز کی رپورٹ کی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’ایمز کی حتمی رپورٹ سے متعلق بہت پریشان ہیں، سی بی آئی ڈائریکٹر کو ایک نئی فارنسک ٹیم تشکیل دینے کی درخواست کرنے جارہے ہیں، ایمز کی ٹیم سشانت کی نعش کی عدم موجودگی میں حتمی رپورٹ کیسے دے سکتی ہے۔‘

انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں ایک اسپتال کی رپورٹ کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے مزید کہا ہے کہ ’وہ بھی کوپر اسپتال کے ذریعہ ایسے ناقص پوسٹ مارٹم رپورٹ پر جس میں موت کے وقت کا بھی ذکر نہیں کیا گیا۔‘

واضح رہے کہ سُشانت سنگھ راجپوت کی حتمی رپوٹ سے متعلق گزشتہ ماہ بھارتی تحقیقاتی ادارے سینٹرل بیورو آف انویسٹیگیشن کی جانب سے انکشاف کیا گیا تھا کہ آنجہانی ہیرو سُشانت سنگھ راجپوت کی نئی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں زہر کے شواہد نہیں ملے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں