شوگر سے پاؤں، ٹانگیں کٹنے سے بچانے کیلئے 3000 کلینک قائم کرنے کا عزم

شوگر سے پاؤں، ٹانگیں کٹنے سے بچانے کیلئے 3000 کلینک قائم کرنے کا عزم 99

پاکستان میں ہر سال ذیابطیس کے نتیجے میں ہونے والے پاؤں کے زخموں کی وجہ سے تین سے چار لاکھ افراد اپنی ٹانگوں یا پاؤں کے کچھ حصوں سے محروم ہو جاتے ہیں لیکن بروقت تعلیم، آگاہی اور علاج کی معیاری سہولیات کے نتیجے میں لاکھوں افراد کے پاؤں اور ٹانگیں کٹنے سے بچائی جا سکتی ہیں۔ پاکستان کے طول و عرض میں تین ہزار فٹ کلینکس قائم کر کے ہزاروں افراد کی ٹانگیں کٹنے سے بچائی جا سکتی ہیں جس کے نتیجے میں ہزاروں لوگوں کو بے روزگار ہونے اور غربت کی لکیر سے نیچے جانے سے بچایا جا سکتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار ملکی اور غیرملکی ماہرین امراض ذیابطیس نے آٹھویں دو روزہ نیشنل ایسوسی ایشن آف ڈائبیٹیز ایجوکیٹرز پاکستان کی آٹھویں فٹ کانفرنس کے مختلف سیشنز سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

کانفرنس سے پاکستان کے مختلف شہروں سمیت یورپ، امریکہ، افریقہ اور مشرق وسطیٰ کے مختلف ممالک سے ذیابطیس کے ماہرین نے خطاب کیا اور شوگر کے مرض کے نتیجے میں ہونے والی پیچیدگیوں، خاص طور پر پاؤں میں ہونے والے زخموں اور اس کے نتیجے میں ٹانگیں کٹنے کے علاج پر تفصیلی روشی ڈالی۔

کانفرنس کے پہلے سیشن سے خطاب کرتے ہوئے معروف ماہر امراض ذیابطیس اور ڈائبیٹک ایسوسی ایشن آف پاکستان کے سیکریٹری جنرل پروفیسر عبدالباسط کا کہنا تھا کہ ذیابطیس کے نتیجے میں پاؤں میں ہونے والے زخموں کے بعد پاؤں اور ٹانگیں کٹنے کے نتیجے میں تین سے چار لاکھ افراد میں سے تیس فیصد افراد ایک سال کے اندر اندر انتقال کر جاتے ہیں، جبکہ 70 فیصد افراد پانچ سال کے اندر جاں بحق ہو جاتے ہیں۔

پروفیسر عبدالباسط نے کہا کہ پورے ملک کے طول و عرض میں 3000 خصوصی فٹ کلینکس قائم کرنے کی ضرورت ہے جس کے ذریعے نہ صرف لاکھوں لوگوں کو معذور ہونے سے بچایا جا سکتا ہے بلکہ کئی قیمتی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کے ادارے نے نہ صرف ڈاکٹروں نرسوں اور ٹیکنیشنز کو ٹریننگ دی ہے بلکہ پاؤں کے زخموں سے بچانے کے لیے خصوصی جوتے تیار کرنے کے ادارے بھی قائم کیے ہیں جہان چند سو روپے کے عوض ایسے جوتے اور سول تیار ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں پاؤں کی بہتر حفاظت ہوتی ہے۔

پروفیسر عبد الباسط کا مزید کہنا تھا کہ ان کے ادارے نے پورے ملک میں 150 خصوصی فٹ کلینکس قائم کیے ہیں جہاں پر آنے والے لوگوں میں ٹانگیں کٹنے کی شرح میں 50 فیصد کمی واقع ہوئی ہے لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ اس طرح کے فٹ کلینکس تمام ضلعی اور تحصیل اسپتالوں میں قائم کیے جائیں تاکہ ہزاروں لوگوں کو فائدہ پہنچایا جا سکے۔

انٹرنیشنل فٹ کانفرنس کے آرگنائزنگ سیکریٹری ڈاکٹر زاہد میاں کا کہنا تھا کہ ذیابطیس کے نتیجے میں ہونے والے پاؤں کے زخموں سے بچاؤ کے حوالے سے بین الاقوامی کانفرنس میں پوری دنیا سے 30 سے زائد ماہرین شرکت کر رہے ہیں جب کہ پاکستان بھر سے ذیابطیس اور پاؤں کے زخموں کے ماہرین اس کانفرنس میں شرکت کرکے مریضوں کو اس مرض سے بچنے اور اپنے بچاؤ کے حوالے سے سفارشات پیش کریں گے۔

ڈاکٹر زاہد میاں نے بتایا کہ کورونا وائرس کی وبا کے نتیجے میں لگائے جانے والی پابندیوں کے نتیجے میں میں ہزاروں مریض اسپتالوں اور کلینکس نہ جاسکے جن کے نتیجے میں ان کے زخم مزید خراب ہوئے لیکن اب انٹرنیشنل ورکنگ گروپ اون ڈائبیٹیز فٹ کی سفارشات کے مطابق ہر مریض کو اسپتال جانے کی ضرورت نہیں بلکہ انٹرنیٹ اور ٹیلی ہیلتھ کے ذریعے ایسے مریض ڈاکٹروں اور ماہرین سے مشورہ کرکے اپنے گھروں پر اپنا علاج خود کرسکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی فٹ کانفرنس کورونا وائرس کی وجہ سے ہونے والی پابندیوں کی وجہ سے آن لائن منعقد کی جارہی ہے لیکن مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے پوری دنیا میں لاکھوں شوگر کے مریض اس ایونٹ کو دیکھ رہے ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس کانفرنس کے نتیجے میں نہ صرف ڈاکٹروں بلکہ شوگر کے مرض میں مبتلا لاکھوں افراد کو فائدہ ہوگا اور وہ ناصرف اپنے پاؤں میں ہونے والے زخموں سے بچ سکیں گے بلکہ جن لوگوں کو یہ زخم ہو چکے ہیں وہ بھی بہتر نگہداشت کے ذریعے اپنی ٹانگوں کو کٹنے سے بچا کر صحت مند زندگی گزار سکیں گے۔

نیشنل ایسوسی ایشن آف ڈیوٹیز ایجوکیٹرز آف پاکستان کے صدر ڈاکٹر سیف الحق کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ذیابطیس کے مریضوں میں آگاہی پھیلانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنے آپ کو اس مرض کی پیچیدگیوں سے بچا سکیں، ان کا کہنا تھا کہ ان کا ادارہ اور ایسوسی ایشن اس سلسلے میں میں نہ صرف ڈاکٹروں بلکہ نرسوں اور عام لوگوں میں آگاہی اور معلومات کی فراہمی کے لیے کام کر رہے ہیں۔

تنزانیہ افریقہ کے معروف ماہر امراض ذیابطیس ڈاکٹر ذوالفقار جی عباس کا کہنا تھا کہ شوگر کی وجہ سے کئی ہزار لوگوں کے پاؤں کی ہڈیوں میں فریکچر اور جوڑوں میں ٹوٹ پھوٹ کا عمل بھی شروع ہو جاتا ہے جس کے نتیجے میں وہ مستقل معذور ہو جاتے ہیں، اگر اس مرض کو ابتدائی مرحلے میں تشخیص کر لیا جائے تو لوگوں کو معذوری سے بچایا جا سکتا ہے۔

کانفرنس سے انٹرنیشنل ورکنگ گروپ اون ڈائبیٹک فٹ کے چیئرمین پروفیسر نکولس شاپر، پروفیسر زمان شیخ، ڈاکٹر عصمت نواز، ڈاکٹر ریاض، ڈاکٹر عاصم بن ظفر اور پروفیسر کریم قمر الدین سمیت دیگر ماہرین نے بھی خطاب کیا۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں