لاہور کے علاقے گلبرگ میں مین بولیوارڈ پر واقع الیکٹرونکس کے بڑےکاروباری مو بائل پلازہ حفیظ سنڑ میں لگنے والی آگ پر تاحال قابو نہیں پایا جا سکا ہے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق گلبرگ کے علاقے مین بولیوارڈ پر واقع مو بائل پلازہ حفیظ سنڑ میں آگ لگنے کا واقع صبح 6 بجے پیش آیا، آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے پلازہ کے بڑے حصے کو لپیٹ میں لے لیا۔
ابتدائی معلومات کے مطابق حفیظ سنڑ کی دوسری عمارت پر شارٹ سرکٹ کے باعث لگی جس نے تیسرے فلور کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے پلازہ کے چوتھے فلور پر لوگ موجود ہیں جنہیں نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
کروڑوں کا سامان جل کر راکھ
ریسکیو ذرائع کے مطابق گلبرگ کے علاقے مین بولیوارڈ پر واقع مو بائل پلازہ حفیظ سنڑ میں آگ لگنے کا واقع صبح 6 بجے پیش آیا، آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے پلازہ کے بڑے حصے کو لپیٹ میں لے لیا۔
#HafeezCentre #Lahore #MobilePlaza pic.twitter.com/hyWlcKXiRC— Daily Urdu (@dailyurdutweet) October 18, 2020

ریسکیو ترجمان کا بتانا ہے کہ شاپنگ سینٹر میں لگنے والی آگ کو بجھانے کے لیے فائر بریگیڈ کی 33 گاڑیاں اور 60 سے زائد رضاکار امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
ترجمان کا یہ بھی بتانا ہے کہ دکانوں میں لیپ ٹاپ اور موبائل فونز کی وجہ سے آگ کی شدت میں تیزی ہے اور آگ پلازہ کے عقبی حصے میں بھی پھیل گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ شاپنگ پلازہ میں آتشزدگی کے باعث دکانداروں کا کروڑوں روپے مالیت کا سامان جل کر خاکستر ہو گیا ہے۔
شیخوپورہ سے فائر بریگیڈ کی گاڑیاں طلب
ترجمان ریسکیو پنجاب کا کہنا ہے کہ آگ بجھانے کے لیے اسپرنکلر سسٹم نہیں ہے جس کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے۔

دوسری جانب ڈی سی لاہور کا کہنا ہے کہ آگ بجھانے کے لیے شیخوپورہ سے بھی فائر بریگیڈ کی گاڑیاں منگوائی گئی ہیں۔
دکانداروں کی سامان نکالنے کی کوشش
آگ سے متاثرہ پلازہ میں دکانداروں نے اپنی دکانوں سے سامان نکالنے کی کوششیں کی اور کاروبار جلتا دیکھ کر کئی دکاندار بے بسی کے عالم میں رو بھی پڑے۔
آگ کے باوجود کئی تاجر نچلی منزل سے سامان نکالنے پلازہ میں گھس گئے اور تاجروں نے کپٹروں میں سامان ڈال کر باہر نکالا۔
حفیظ سنڑ سے سامان نکالنے کے لیے تاجر شاپنگ بیگ ڈھونڈتے رہے اور بعض تاجروں نے قمیضیں اتار کر موبائل فون ڈال کر باہر نکالے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے تحقیقاتی رپورٹ طلب کر لی
وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے شاپنگ پلازہ میں لگی آگ کے واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے انتظامیہ سے رپورٹ طلب کر لی ۔
عثمان بزدار نے حکم دیا کہ چھت پر موجود افراد کو سب سے پہلے ریسکیو کیا جائے، پھنسے ہوئے افراد کو بحفاظت نکالنا پہلی ترجیح ہے۔
انہوں نے ہدایت کی کہ لاہور کے پلازہ میں آگ پر قابو پانے کے لیے تمام وسائل استعمال کیے جائیں، انتظامی افسران اور ریسکیو 1122 کے حکام کو بھی آگ سے متاثر پلازہ پہنچنےکی ہدایت کی گئی ہے۔
صوبائی وزراء کی آمد پر تاجروں کا احتجاج
وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد اور صوبائی وزیر برائے ڈیزاسٹر مینجمنٹ میاں خالد آگ سے متاثرہ پلازے پر امدادی کارروائیوں کا جائزہ لینے پہنچے تو تاجروں نے صوبائی وزراء کے خلاف احتجاج اور نعرے بازی شروع کر دی۔
تاجروں نے ڈاکٹر یاسمین راشد، وزیر ڈیزاسٹر مینجمنٹ میاں خالد کی گاڑیوں کاگھیراو کر لیا اور صوبائی وزراء کے ساتھ تلخ کلامی بھی کی۔
بعدازاں تاجر رہنماؤں نے صوبائی وزراء سے تلخ کلامی اور بدتمیزی پر ڈاکٹر یاسمین راشد سے معذرت کی۔
سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے بھی آگ سے متاثرہ علاقے کا دورہ کیا اور امدادی کارروائیوں کا جائزہ لیا۔









