مولانا عادل کے قتل میں استعمال اسلحہ پہلے کسی واردات میں استعمال نہیں ہوا، تفتیشی ذرائع

مولانا عادل کے قتل میں استعمال اسلحہ پہلے کسی واردات میں استعمال نہیں ہوا، تفتیشی ذرائع 53

شاہ فیصل کالونی میں نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے شہید ہونے والے جامعہ فاروقیہ کے مہتمم مولانا عادل خان کے قتل کی تحقیقات جاری ہیں، حکام کو تفتیش میں پیش رفت ہوئی ہے، تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانا عادل کے قتل میں استعمال ہونے والا اسلحہ پہلے کسی واردات میں استعمال نہیں ہوا۔

تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ موقع سے ملنے والی نائن ایم ایم پستول کی گولیوں کا فارنزک کرلیا گیا، حساس اداروں نے جیو فینسنگ کر لی جو تین مقامات کی گئی ہے۔

تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ واردات کا مقدمہ شاہ فیصل کالونی تھانے میں درج کیا جارہا ہے، مقدمے کے اندراج کے بعد تفتیش سی ٹی ڈی کرے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں ٹارگٹ کلرز موقع پر کیسے پہنچے یہ معمہ حل نہ ہوسکا، مولانا کی گاڑی کا تعاقب کرتے صرف ایک ملزم دیکھا گیا۔

تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ اطلاع ہے کہ ٹارگٹ کلرز اپنے ساتھی کے ساتھ موٹر سائیکل پر تھوڑا آگے تک گئے پھر ایک گاڑی میں بیٹھ کر فرار ہوگئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں