نہال ہاشمی سے جھگڑنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف انکوائری شروع

نہال ہاشمی سے جھگڑنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف انکوائری شروع 121

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما نہال ہاشمی سے جھگڑنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف پولیس انکوائری شروع کردی گئی ہے۔

ایس ایس پی کورنگی فیصل چاچڑ کے مطابق ایس پی لانڈھی 3 دن میں انکوائری کرکے رپورٹ دینگے۔

فیصل چاچڑ نے کہا کہ پولیس اہلکار راجہ اکرام، کانسٹیبل امان اللّٰہ اور ایس ایچ او رانا حسیب کے خلاف انکوائری ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ جھگڑے کی جگہ کی سی سی ٹی وی وڈیوزحاصل کی جارہی ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ انکوائری میں اہلکار ذمے دار قرار پائے تو محکمہ جاتی کارروائی ہوگی۔

پولیس اہلکاروں سے بدتمیزی سے متعلق مقدمے میں جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت نے نہال ہاشمی اور ان کے بیٹوں کی ضمانت منظور کر لی۔

جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت نے انہیں بیس بیس ہزار روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دے دیا۔

اس سے قبل نہال ہاشمی اور ان کے بیٹوں کو سعود آباد کے تھانے سے بکتر بند میں جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت لے جایا گیا تھا، اس موقع پر عدالت کے اطراف پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی۔

پیشی کے دوران وکلاء نے پولیس اہلکاروں کو کمرۂ عدالت سے نکال دیا تھا اور کہا تھا کہ کوئی پولیس والا کمرۂ عدالت میں نہیں آئے گا۔

عدالت کے باہر نہال ہاشمی نے میڈیا سے غیر رسمی گفتگو میں کہا کہ مجھے بتایا گیا کہ سول کپڑوں میں میرے بیٹوں کو ڈالے میں لے کر گئے ہیں، میں اور میری اہلیہ تھانے گئے تو انہوں نے ہم سے بدتمیزی کی۔

نہال ہاشمی ایڈووکیٹ کا یہ بھی کہنا تھا کہ کچھ اہلکار وہاں فون پر بات کر رہے تھے کہ انہیں ٹھیک کر دیں گے، وہاں پر کچھ لوگ سادہ کپڑوں میں بھی تھے۔

واضح رہے کہ پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ گزشتہ رات ملیر کالا بورڈ کے علاقے میں نون لیگی رہنما نہال ہاشمی کے اہلِ خانہ نے پولیس اہلکاروں سے بدتمیزی کی اور اہل کاروں کی وردیاں پھاڑ دیں۔

دوسری جانب نہال ہاشمی نے ایس ایچ او پر موبائل فون چھیننے کا الزام لگایا تھا اور کہا تھا کہ اہلکاروں نے اُنہیں اور ان کی اہلیہ کو دھکے دیئے جس سے اہلیہ زخمی ہو گئیں۔

واقعے کے بعد پولیس نے نہال ہاشمی کو ان کے دونوں بیٹوں اور اہلکاروں سمیت حراست میں لے لیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں