پاکستان سے ہیپاٹائٹس سی کا خاتمہ ممکن ہے

پاکستان سے ہیپاٹائٹس سی کا خاتمہ ممکن ہے 159

عالمی ادارۂ صحت کی جانب سےجاری کردہ گزشتہ برس کی ایک رپورٹ کے مطابق دُنیا بَھر میں ہیپاٹائٹس سی سے متاثرہ افراد کی تعداد تقریباً 7کروڑ ہوگئی ہے۔ واضح رہے کہ 2015ء کے اعداد و شمار کے مطابق دُنیا بَھر میں ہیپاٹائٹس سی سے انتقال کرجانے والوں کی تعداد 5لاکھ تھی۔ اگر پاکستان کی بات کریں، تو لگ بھگ ایک کروڑ یعنی5فی صد افراد ہیپاٹائٹس سی کا شکار ہیں،جب کہ سالانہ اموات کی تعداد اَسّی ہزار سے ایک لاکھ کے درمیان ہے، جو کہ 2005ء میں آنے والے زلزلے کی ہلاکتوں کے تقریباًبرابر ہے۔ اس پر المیہ یہ ہے کہ دُنیا بھر میں، بشمول پاکستان 70سے 80فی صد افراد کو یہ معلوم ہی نہیں کہ وہ اس موذی مرض میں مبتلا ہیں۔ یعنی صرف دس فی صد اپنی بیماری سے آگاہ ہیں۔

پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی کے پھیلاؤ کی سب سے بڑی وجہ ادویہ کی بجائے غیر ضروری انجیکشنز اور ڈرپس کا استعمال ہے،پھر بعض جگہوں پر سرنجز یا سوئیاں دوبارہ استعمال کرلی جاتی ہیں،جس کے نتیجے میں ہر سال قریباًدو لاکھ اَسّی ہزارنئے افراد ہیپاٹائٹس سی کا شکار ہوجاتے ہیں۔تاہم،یہ امر خوش آئند ہے کہ ہپاٹائٹس سی کی نئی ادویہ”DAAs:Directly Acting Antiviral Drugs”متعارف کروائے جانے کےبعد علاج کی کام یابی کا تناسب90فی صد تک بڑھ چُکا ہے۔ 2018ء میں پاکستان میں ایک کروڑ افراد میں سے صرف ایک لاکھ ستر ہزار نے(جو کہ کُل آبادی کا تقریباً ڈیڑھ فی صد حصّہ بنتا ہے) ان ادویہ کا استعمال کیا۔ جس سےواضح ہوتا ہے کہ پاکستان میں علاج کروانے والوں سے زیادہ نئے مریضوں کی تعداد ہے۔ یاد رہے، ہیپاٹائٹس سی کے پھیلاؤ کا موجب پانی، حشرات اور ہوا جیسے دیگرعوامل نہیں، بلکہ اس سے متاثرہ افراد ہیں،لہٰذا ہیپاٹائٹس سی کا پھیلاؤ روکنے کے لیے اس عارضے میں مبتلا لگ بھگ ایک کروڑ مریضوں کا علاج ناگزیر ہے۔

اس ضمن میں عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ2030ء تک دُنیا بَھر سے ہیپاٹائٹس سی کا خاتمہ ممکن ہے، بشرطیکہ ہرفرد ہیپاٹائٹس سی کا تشخیصی ٹیسٹ کروائے۔ اصل میں 2016ء میں عالمی ادارۂ صحت نے ہیپاٹائٹس سے متعلق ایک عالمی حکمتِ عملی وضع کی، جس کے تحت 2030ء تک ہیپاٹائٹس کے خاتمے کاہدف مقرر کیا گیا اور یہ تب ہی ممکن ہوگا، جب ہیپاٹائٹس سی میں مبتلا90فی صد افراد کی تشخیص کی جاسکے گی اور80فی صد مریضوں کو علاج معالجے کی سہولتیں فراہم کی جائیں۔ تاہم، پاکستان ان خوش نصیب مُمالک کی فہرست میں شامل ہے، جہاں ڈی اے اے ایس ادویہ کی قیمت سب سے کم یعنی چھے ہزار سے بائیس ہزار روپے تک ہے۔ مگر افسوس ناک امر یہ ہے ہیپاٹائٹس سی کے تشخیصی ٹیسٹس کی قیمت بہت زیادہ ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ہیپاٹائٹس سی سے متاثرہ ایک مریض کے صرف ٹیسٹس کے اخراجات تقریباً دس سے پندرہ ہزار روپے بنتےہیں،جس میں دو بارایچ سی وی پی سی آر(HCV PCR)بھی شامل ہے۔

پاکستان سے ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کا خواب 2030ءتک پورا ہوتا نظر نہیں آتا ،جس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں سرکاری یا غیر سرکاری سطح پرمربوط اور مضبوط اسکریننگ پروگرام کا نظام عملی طور پر موجود ہی نہیں ہے۔ اگرچہ مختلف این جی اوز،سوسائٹیز، سرکاری اور نجی اسپتال اپنے طور پر مریضوں کی اسکریننگ کررہے ہیں، اس کے باوجود نئے مریضوں کی تشخیص میں نمایاں کام یابی حاصل نہیں ہو سکی ہے۔ اگر ہمیں اپنے مُلک سےہیپاٹائٹس سی کا90 فی صد تک خاتمہ کرنا ہے، تو ہرسال لازماً ڈھائی کروڑ افراد کے تشخیصی ٹیسٹ کرنا ہوں گے۔ایک محتاط اندازے کے مطابق ان ڈھائی کروڑ افراد میں سےلگ بھگ 9لاکھ نئے کیسز تشخیص ہوں گے،جن میں 7سے 8 لاکھ افراد علاج کروانے پر آمادہ ہوں گے۔

اس اعتبار سےاگر سالانہ 8اکھ افراد علاج کروالیں، تو 7.5لاکھ افراد کو ہیپاٹائٹس سی سےتحفّظ حاصل ہوجائے گا اور 2030ء تک دس لاکھ افراد موت کے منہ میں جانے سے بچ جائیں گے،بصورتِ دیگر 14لاکھ افراد لقمۂ اجل بن جائیں گے۔ اس ضمن میں حکومت کو چاہیے کہ شہروں اور قصبوں میں لاک ڈائون کرکے تمام باشندوں کی بیک وقت اسکریننگ کرےاور جن میں مرض تشخیص ہو، انہیں علاج مہیا کیا جائے۔ علاوہ ازیں،ہر خاندان کو فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (Family Registration Certificate) کی طرز پر ہیپاٹائٹس فری سرٹیفکیٹ(Hepatitis Free Certificate)فراہم کیاجائے،جو ملازمت، شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کے حصول کے لیے لازم ہو۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سب مل کر انفرادی اور اجتماعی طور پر ہیپاٹائٹس بی اور سی سے متعلق درست آگہی فراہم کریں۔ علاوہ ازیں، اپنے پورے کنبے کی ایک ہی وقت میں اسکریننگ کروائیں اور اگر گھر کا کوئی فرد ہیپاٹائٹس کا شکار ہو، تو اس کا درست علاج کروایا جائے اور ساتھ ہی یہ بات بھی یاد رکھیں کہ جب کسی بھی نوعیت کی طبّی تکلیف کے باعث معالج کے پاس جائیں، تو اگر کوئی ایمرجینسی نہ ہو تو ادویہ ہی کے ذریعے علاج کو ترجیح دی جائے اور غیر ضروری انجیکشنز اور ڈرپس سے اجتناب برتا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں