کریس بیج میں قوت مدافعت بڑھانے کا راز

کریس بیج میں قوت مدافعت بڑھانے کا راز 131

لال رنگ کے ننھے ننھے کریس بیج جنہیں عربی میں حرب الرشاد بھی کہا جاتا ہے بالوں اور جلد کی نشونما کے ساتھ ساتھ قوت مدافعت بڑھانے کے لیے جادوئی اثر رکھتے ہیں۔اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بالوں کی نشونما تیزی سے ہو اور آپ کا مدافعاتی نظام بہتر طریقے سے کام کرے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ کریس بیج کا استعمال کریں۔

ریس ایک تیزی سے بڑھنے والی جڑی بوٹی ہے جونباتاتی براسیکا (اور سرسوں) فیملی کے کئی پودوں میں سے ایک ہے، یہ بُوٹی سلاد اور دیگر کھانوں میں سجاوٹ کے طور پر استعمال کی جاتی ہے۔

کریس میں کولیسٹرول اور سوڈیم کی مقدار کم ہوتی ہے، اس کے علاوہ اس جڑی بوٹی میں وٹامن ای، وٹامن اے، وٹامن سی، وٹامن K، وٹامن B6، کیلشیم، میگنیشیم، فاسفورس پوٹاشیم، تھایامین اور نیاسین سمیت دیگر غذائی اجزاء بھی پائے جاتے ہیں۔

یہ آنکھوں کی بینائی تیز کرنے میں کار آمد ثابت ہوتے ہیں، کینسر سے بچاتے ہیں، جلد خوبصورت بناتے ہیں، دانتوں کے لیے مفید اور دل کو مضبوط بناتے ہیں۔

کریس کے بیج عام طور پر خواتین میں بچے کی پیدائش کے بعد کی پیچیدگیوں کو روکنے کے لیے دوائیوں میں استعمال کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ کریس کے بیج ریشے والی کھانسی ،دمہ، جلد کی بیماری، موچ کے علاج میں بھی مفید ہیں۔

کریس کے بیج آئرن، فولک ایسڈ ، وٹامن ای اور وٹامن اے کا بھرپور ذریعہ ہیں ان میں استثنیٰ بڑھانے کی خصوصیات ہیں۔ کورونا وائرس سےصحتیاب ہونے والےافراد کے لیے یہ بیج فائدہ مند ثابت ہوسکتے ہیں۔
کریس کے بیج کمزور بالوں کو مضبوط بناتے ہیں اور بالوں کی تیزی سے نشونما کرتے ہیں۔
کریس کے بیج بے اولاد خواتین کے حاملہ ہونے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔
کریس کے بیج ایکنی اور کیل مہاسوں سے نجات پانے کے لیے بھی بےحد مفید سمجھے جاتے ہیں۔
کریس کے بیج خواتین کے جِلد کے مسائل حل کرنے کے لیے بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔
گنج پن کو دور کرنے کے لیے بھی کریس کے بیج استعمال کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔
ڈاکٹر کہتے ہیں کہ کینسر کے مریضوں کو اپنی غذا میں کریس بیج لازمی شامل کرنے چاہئیں۔
اس کے علاوہ ذہنی تناؤ اور ڈپریشن کے شکار افراد بھی ان بیجوں کا استعمال کرسکتے ہیں۔

ان بیجوں کو اپنی غذا میں شامل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ آپ انہیں کچھ دیر کے لیے پانی میں بھگوئیں اور پھر رات کو سونے سے پہلے یہ بیج دودھ میں شامل کرکے پی لیں، اس کے علاوہ آپ ناریل، گھی اور گُڑ میں بھی کریس بیجوں کے لڈو تیار کرکے کھاسکتے ہیں۔

خیال رہے کہ جو افراد پہلی بار کریس بیجوں کو استعمال کرتے ہیں اُن کے لیے یہ ہضم کرنا تھوڑا مشکل ہوتا ہے لہٰذا پہلی بار میں کم مقدار میں بیجوں کا استعمال کیا جائے۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں