کمر کے درد سے نجات کیلئے 5 بہترین ورزشیں

کمر کے درد سے نجات کیلئے 5 بہترین ورزشیں 130

کمر کا درد انسانی کارکردگی پر براہ راست اثر انداز ہوتا ہے مگر اس درد کو اُف سے آہا میں بدلنے کے لیے نہ زیادہ وقت درکار ہوتا ہے اور نہ ہی زیادہ محنت، بس چند ورزشوں کو اپنی روٹین میں شامل کر کے اس درد سے نجات حا صل کی جا سکتی ہے۔

کمر کے درد میں سب سے بڑا ہاتھ غلط بیٹھنے کے انداز کو قرار دیا جاتا ہے، بیٹھنے کے انداز کو درست کر کے اسے کم کیا جا سکتا ہے جبکہ ایک ہی غلط انداز میں بیٹھے رہنے سے اس میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے جس کے لیے پھر ڈاکٹروں سے رجوع کرنا ہی آخری آپشن ہوتا ہے۔

کمر کا درد بڑھ جانے سے اس کا علاج فزیوتھیراپی سے کیا جا تا ہے جبکہ اس سے اُٹھنے سے قبل یا کمر کا درد اُٹھنے کے فوراً بعد اپنی روزانہ کی روٹین میں چند ورزشیں شامل کر لی جائیں تو بہت افاقہ ہوتا ہے۔

طبی ماہرین و فیزیو تھیراپسٹ کے مطابق کمر کے درد کی شکایت کا سامنا زیادہ تر ایسے افرا کو کرنا پڑتا ہے جو ایک دن میں 8 سے 10 گھنٹے بیٹھے رہتے ہیں یا جسمانی طور پر متحرک نہیں ہوتے ہیں۔

ماہرین کی جانب سے ایسے افراد کو کمر درد کی شکایت سے بچنے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر ورزش کرنا تجویز کیا جاتا ہے۔

کمر کے درد کے خاتمے کے لیے چند بہترین ورزشیں اور یوگا مندرجہ ذیل ہیں جنہیں روٹین میں شامل کر کے کمر درد سے چھٹکارے سمیت متحرک زندگی حاصل کی جا سکتی ہے۔

پٹھوں کو کھینچنے سے متعدد شکایات میں کمی واقع ہوتی ہے ، مسلز اسٹریچنگ ماہرین کی جانب سے تجویز کی جاتی ہے ، ڈیڈ لِفت مسلز اسٹریچنگ کے لیے ایک بہترین ورزش ہے ، ڈید لِفٹ سے ریڑھ کی ہڈی اور اس کے گرد پٹھوں میں کھنچاؤ پیدا ہوتا ہے جس کے سبب ہڈی کو در پیش مسائل میں کمی واقع ہوتی ہے۔

فارورڈ بینڈنگ پورے جسم کے پٹھوں کے لیے بہترین ورزش ہے، اس سے خون کی ترسیل تیز ہوتی ہے اور پٹھوں کو سکون ملتا ہے، اس ورزش کو روزانہ کی بنیاد پر عادت بنا لینے سے اَکڑے ہوئے جسمانی پٹھے نرم ہوتے ہیں اور متحرک رہنے میں مدد ملتی ہے۔

انسان جب بلی کی طرح اپنے جسم کے پٹھوں کو کھینچتا ہے تو جسم میں خون کی ترسیل بہتر طریقے سے فعال ہو جاتی ہے، کیٹ اسٹریچ پوز سے انسان کو دماغی طور پر پر سکون رہنے میں مدد ملتی ہے اور کمر کے درد میں فوراً آرام آتا ہے۔

پیجن پوز نہ صرف ریڑھ کی ہڈی بلکہ پیٹ کے مسلز اور کولہوں کے گرد پٹھوں کے لیے بھی نہایت مفید ورزش ہے، پیجن پوز سے کمر کے سارے پٹحے تناؤ میں آ جاتے ہیں جس کے سبب خون کی ترسیل کا عمل تیز ہوتا ہے اور پٹھوں اکراہٹ ختم ہوتی ہے درد میں کمی واقع ہوتی ہے ۔

انپ کی طرح کو منہ کے بل لیٹ کر اپنا آدھا حصہ اوپر کی جانب اُٹھانا کمر کے درد کے لیے بہترین یوگا قرا دیا جاتا ہے، غلط انداز میں بیٹھنے کے سبب انسانی جسم کی ساخت متاثر ہوتی جبکہ کوبرا پوز کرنے سے ریڑھ کی ہڈی میں آرام ملتا ہے۔

پیٹ کے بل زمین پر لیٹیں اور ہاتھ زمین پر ٹِکا کر سر اور سینے کو اوپر اٹھالیں کسی سانپ کی طرح، یہ ورزش کمر، کولہوں اور دیگر حصوں کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں