کورونا وائرس کی دوسری لہر پہلی سے زیادہ خطرناک ہے، ماہرین صحت

کورونا وائرس کی دوسری لہر پہلی سے زیادہ خطرناک ہے، ماہرین صحت 136

ماہر پلمونولوجسٹ ڈاکٹر شازلی منظور نے کورونا وائرس کی دوسری لہر کو پہلی سے زیادہ خطرناک قرار دے دیا۔

جیو نیوز سے گفتگو میں ڈاکٹر شازی منظور نے کہا کہ کورونا کی پہلی لہر سے بزرگ یا دیگر امراض میں مبتلا افراد زیادہ متاثر ہوئےتھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کورونا کی دوسری لہر سے ہر طبقہ خصوصاً نوجوان بھی بڑی تعداد میں متاثر ہورہے ہیں جبکہ پہلی لہر میں دی گئی دوائیں اب دیر سے اثر کر رہی ہیں۔

ماہر پلمونولوجسٹ نے یہ بھی کہا کہ پہلی لہر میں کورونا وائرس کی ٹیسٹنگ کے لیے کووڈ19 پی سی آر کو مؤثر ٹیسٹ قرار دیا گیا تھا جبکہ دوسری لہر میں علامات والے مریضوں میں بھی ٹیسٹ کی تشخیص نہیں ہوپاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وبائی مرض کی علامات ہونے کے باوجود پی سی آر میں کورونا کی تشخیص نہ ہونا خطرناک ہے، جس کی 2 وجوہات ہوسکتی ہیں۔

ڈاکٹر شازلی منظور نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ کورونا وائرس اپنی شکل بدل رہا ہے، جو کسی بھی وائرس کی خاصیت ہوتی ہے اور پی سی آر ٹیسٹ اس تبدیلی کی نشاندہی نہیں کر پا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی دوسری لہر میں 2 تا 3 ہفتے بعد وائرس کی تشخیص ہورہی ہے، جس سے مریض کا علاج کرنا مشکل عمل ہے۔

ماہر پلمونولوجسٹ نے کہا کہ ظاہر ہورہا ہے کہ کورونا وائرس اب فوری تشخیص ہونے والی بیماری نہیں رہی۔

ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کی کورونا سے آگہی اور علامات ظاہر ہونے پر خود کو قرنطینہ کرنا خوش آئند ہے۔

ڈاکٹر شازلی منظور نے مزید کہا کہ جس تیزی سے کورونا وائرس پھیل رہا ہے ممکن ہے حکومت کو مکمل لاک ڈاؤن کرنا پڑے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ کورونا وائرس کا بہترین علاج اب بھی ماسک اور بچاؤ کے قواعد و ضوابط (ایس او پیز) پر عمل کرنا ہی ہیں۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں