ہاتھوں سے محروم اسنوکر پلیئر کے چرچے

ہاتھوں سے محروم اسنوکر پلیئر کے چرچے 93

کراچی(اے ایف پی،جنگ نیوز) پیدائشی طور پر دونوں ہاتھوں سے محروم پنجاب کے ٹاؤن سمندری کے 32سالہ نوجوان محمد اکرام نے تھوڑی سے اسنوکر کھیل کر اپنی صلاحیت سے سب کو حیران کردیا اور اب وہ حکومت کی سپورٹ سے بین الااقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کے خواہشمند ہیں۔ غیرملکی خبررساںادارے کےمطابق اپنی معذوری کو شکست دے کر اسنوکر میں اپنی پہچان بنانے والے محمد اکرم غریب گھرانے میں پیدا ہوئے، کبھی اسکول کی شکل نہ دیکھنے والے اکرام نے 9عمری میں مقامی اسنوکر ہال میں کھلاڑیوں کو دیکھنا شروع کیا جس نے ان کے دل میں اسنوکر کھیلنے کی خواہش کو جنم دیا،اپنے شوق کو عملی جامہ پہنانے کیلئے اکرام نے خفیہ طور پر اسنوکر کھیلنے کی پریکٹس کی،اکرام کے مطابق شروع شروع میں خالی پول ٹیبل پر گیندوں کو خود ہی دھکا دیتا تھا، آہستہ آہستہ میں نے اپنے کھیل کو بہتر بنایا اور دوسروں کے ساتھ کھیلنا شروع کیا،اکرام اب شہر کے بہترین کھلاڑیوں کو چیلنج کرسکتے ہیں،غیرملکی خبررساں ادارے کی ٹیم کے ساتھ اسنوکر ہال میں اکرام نے بہت سارے شاٹس کا مظاہرہ کر کے بھی دکھایا، جس پر ہال تالیوں سے گونج اٹھا،اکرام حکومت کی سپورٹ سے بین الااقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کرنے کے خواہشمند ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں