ٹیکسٹائل صعنت کو 900 ارب روپے سے زائد کی مراعات دیئے جانے کا امکان

233

ٹیکسٹائل پالیسی 2020-2025ء کے تحت حکومت کو ٹیکسٹائل صعنت کے لیے 900 ارب روپے سے زائد کی مراعات دینے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

دستاویزات کے مطابق ٹیکسٹائل پالیسی منظوری کے لیے اقتصادی رابط کمیٹی کو بھجوا دی گئی ہے، ٹیکسٹائل کے شعبے کو 900 ارب کی مراعات پانچ سال کے دوران دی جائے گیں، حکومت کو ارسال کی گئی دستاویزات کے میں بجلی، گیس کے ٹیرف کم، فنانسگ بڑھانے اور نئی منڈیوں تک رسائی کی تجاویز پیش کی گئی ہیں۔

دستاویز میں ٹیکسٹائل سیکٹر کو بجلی 9 سینٹ سے کم کر کے 7.5 سینٹ پر فراہم کرنے اور آر ایل این جی گیس 6.5 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی فراہم کرنے کی بھی تجویز بھیجی گئی ہے۔

حکومت کو پیش کی گئی تجاویز کے مطابق ٹیکسٹائل شعبےکے لیے قدرتی گیس 786 روپے ایم ایم بی ٹی یو کرنے، 2025 تک مین میڈ فائبر 30 فیصد سے بڑھا کر 50 فیصد تک استعمال کرنے، ویلیوایڈڈ ٹیکسٹائل مصنوعات پر 4 فی صد ڈیوٹی ڈرابیک دینے اور سرمایہ کاری پر ٹیکس کریڈٹ کو بحال کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے ۔

ٹیکسٹائل پالیسی 2020-2025ء کے لیے پیش کی گئی مزید تجاویز کے مطابق عارضی امپورٹیشن اسکیمز کو مزید آسان بنانے ، ٹیکسٹائل شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے لانگ ٹرم فنانسنگ کی سہولت دینے، ان ڈائریکٹ برآمدکندگان کو لانگ ٹرم فنانسنگ اور ویلیو ایڈڈ شعبے میں سرمایہ پر لانگ ٹرم فنانسنگ کی سہولیت دینے کی بھی تجویز شامل ہے۔

حکومت کو ارسال کی گئی دستاویز کے مطابق لانگ ٹرم فنانسنگ پر مارک اپ کی شرح 5 فی صد، ٹیکسٹائل شعبے کے لیے لانگ ٹرم فنانسنگ کو سالانہ 1 سو ارب روپے کیے جانے کی بھی تجویز شامل ہے۔

اس طرح گنجان آبادی والے علاقوں میں گارمنٹس سٹی بنانے، عالمی خریداروں کو پاکستان میں دفتر کھولنے کی اجازت، ایکسپورٹ فنانس اسیکم پر مارک اپ کی شرح کو 3فیصد برقرار رکھنے اور ٹیکسٹائل شعبے میں ہیومین ریسورس ڈیوپلمنٹ پر فوکس دینے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل وزیراعظم عمران خان ٹیکسٹائل پالیسی مسودے کی منظوری دے چکے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں