وفاقی نظامت تعلیمات کو اسلام آباد کے تعلیمی اداروں کے طلباء و طالبات سے ٹرانسپورٹ کی مد میں رقم لینے سے روک دیا گیا ہے

282

قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ وفاقی نظامت تعلیمات کو اسلام آباد کے تعلیمی اداروں کے طلباء و طالبات سے ٹرانسپورٹ کی مد میں رقم لینے سے روک دیا گیا ہے اور وفاقی نظامت تعلیمات کو متنبہ کیا گیا ہے کہ بچوں پر مالی بوجھ ڈالنے کے حوالے سے آئندہ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے وزارت تعلیم سے رجوع کیا جائے۔
پیر کو قومی اسمبلی میں عالیہ کامران کے وفاقی نظامت تعلیمات اسلام آباد کے تعلیمی اداروں کے طلباء و طالبات سے ٹرانسپورٹ کی مد میں زائد کرایہ وصول کرنے سے متعلق توجہ مبذول نوٹس کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر پارلیمانی امور مرتضیٰ جاوید عباسی نے کہا کہ 2016ء میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے یہ بسیں فراہم کیں۔
سابق حکومت کے دور میں یہ کہا گیا کہ حکومت مالی مشکلات کی وجہ سے یہ خرچ برداشت نہیں کر سکتی۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے 432 تعلیمی اداروں میں سے 118 میں ٹرانسپورٹ کی سہولت موجود ہے۔ وفاقی وزیر تعلیم اور حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ایس ایم سی اور سی ایم سی کے طلباء و طالبات سے کرائے کی مد میں رقم وصول کرنے سے روک دیا ہے اور اس سلسلے میں فوری طور پر 100 ملین کا فنڈ مختص کیا گیا ہے اور آئندہ کے لئے فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ اس طرح کا کوئی بھی فیصلہ وزارت کی منظوری کے بغیر لاگو نہیں ہوگا۔
عالیہ کامران کے سوال کے جواب میں مرتضیٰ جاوید عباسی نے کہا کہ اس ضمن میں وزیر تعلیم نے ہدایات دے دی ہیں۔ 16 سال تک کے بچوں کو مفت تعلیم کی فراہمی حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے۔ قادر خان مندوخیل کے سوال کے جواب میں وزیر پارلیمانی امور نے کہا کہ 2021ء میں وزارت خزانہ نے بسوں کو چلانے کے لئے مانگی گئی رقم پر اعتراض لگایا کہ یہ بسیں سیلف فنانس یا پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت چلائی جائیں۔ والدین اور انتظامیہ کی مشترکہ کمیٹی نے یہ فیصلہ کیا تھا۔ ایک اور سوال کے جواب میں وزیر پارلیمانی امور نے کہا کہ وفاقی نظامت تعلیمات کو یہ واضح ہدایت کی گئی ہے کہ آئندہ بچوں پر مالی بوجھ کا باعث بننے والا کوئی بھی فیصلہ وزارت تعلیم کی پیشگی اجازت کے بغیر نہ کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں