پاکستان کی اشرافیہ محسوس کرے نہ کرے۔ ملک کے جفاکش عوام کو بھرپور احساس ہے کہ ہم تاریخ کے ایک انتہائی حساس باب کا حصّہ بن رہے ہیں۔ جریدۂ عالم پر ہمارا دوام ثبت ہورہاہے۔ ریاست متزلزل ہے۔ مگر ریاست کے اصل مالک عام پاکستانی ہمیشہ اسے سہارا دے رہے ہیں، وہ اب بھی اپنی جرأت کا اظہار کررہے ہیں۔ وہ اسے دشمنوں کی سازشوں، اپنوں کی بزدلی اور حماقتوں کے باوجود ناکام نہیں ہونے دیں گے۔
آج اتوار ہے۔ ایسے تاریخی اتواروں میں سے جس کا ایک ایک لمحہ بہت نازک ہوتا ہے۔ اسے سنبھالنا پڑتا ہے۔ آج اپنے بیٹوں بیٹیوں، پوتوں پوتیوں، نواسوں نواسیوں سے ملنے، دوپہر کے کھانے پر اپنے خیالات کے تبادلے کے لمحات، اس سے یقیناً آپ کے خاندان کو تقویت پہنچتی ہے۔ ان دنوں اکثر گھرانوں میں ٹوٹ پھوٹ، تلخیوں کی اطلاعات ملتی ہیں تو یہی اندازہ ہوتاہے کہ ان کے ہاں ہفتہ وار قربت کا اہتمام نہیں ہوتا ہوگا۔ ذہنوںمیں اٹکے۔ رڑکتے معاملات باہر نہیں آتے ہوں گے جو بعد میں لاینحل ہوجاتے ہیں۔ بیٹے بیویاں لے کر الگ ہوجاتے ہیں۔ بھائی بھائی کا دشمن بن جاتا ہے۔ جائیدادوں کے جھگڑے ہوتے ہیں۔ بزرگوں کے لئےاحترام ہوا ہوجاتا ہے۔ چھوٹوں کے سر پر ہاتھ رکھنے کی بجائے ان کے گلوں پر رکھ دیا جاتا ہے۔ گھروں کے آنگن میں پیار کی بجائے نفرتیں اگنے لگتی ہیں۔ خدارا رشتوں کا پاس کریں۔ یہی آپ کی اصل دنیا ہے۔
کبوتر اسلام آبادمیںآنکھیں بند کرے یا پنڈی میں، کراچی میں ایسا کرے یا کوئٹہ میں، لاہور میں یا پشاور میں، خونخوار بلی اپنے ہدف پر جھپٹنے سے باز نہیں آتی۔
میڈیا پرنٹ میں ہو۔ بجلی سے چلتا یا لوگوں کے ہاتھوں میں موبائل میں۔ بہت طاقت ور ہوتا ہے۔ لیکن جو ہورہا ہے وہ دکھانے کی بجائے کسی کے کہنے پر کچھ اور دکھائے تو وہ اپنی قوت خود کم کرنے لگتا ہے۔ جب ہزاروں لوگوں کے آپس میں ملنے کی رسم چل رہی ہو۔ وہ اپنے ارد گرد بھی ہجوم دیکھ رہے ہوں۔ اپنے ہزاروں گھروں سے دوستوں سے واقف کاروں سے رابطے میںہوں تو میڈیا غیر ضروری بھی ہوجاتا ہے۔
عقیدتیں بہت خطرناک بھی ہوتی ہیں۔ لیکن تسخیرِ عالم کی اہلیت بھی رکھتی ہیں۔ عقیدت اور عشق میں جب خود سپردگی کا مرحلہ آجائے تو انجام سے بے فکری ہوجاتی ہے۔ سیاست کا میدان ہو۔ حکمرانی کے قلعے۔ رہبری کے احاطے ہوں۔ یہ سب عاشق و معشوق کے روابط ہوتے ہیں۔ جب محبوب کی ہر ادا حسین لگتی ہے۔ عقیدت اور عشق میں محبوب کے خلاف الزامات سنائی ہی نہیں دیتے۔ بہت سے مناظر دیکھے ہیں جب عقیدت مصلحت پر غالب آجاتی ہے۔ ایک پیر صاحب کو پیتھڈین کے نشے کی عادت تھی۔ ان کے اہل خانہ، ڈاکٹرز سب نے انہیں سختی سے منع کردیا تھا۔ مگر ان کے مرید اخروٹوں میں پیتھڈین بھر کر ان تک پہنچادیتے تھے۔عقیدتوں کا یہ عالم وہی لیڈر، وہی شاعر، وہی روحانی رہنما جانتے ہیں جنہیں ہزاروں لاکھوں کی محبت نصیب ہوتی ہے یا ان کھلاڑیوں سے پوچھئے جن کے پرستار اسٹیڈیم کی رکاوٹیں توڑ کر ان تک پہنچ جاتے ہیں۔ کرکٹ ہی نہیں ہاکی، فٹ بال،والی بال۔اپنے ہاں کبڈی، کشتی میں الفتوں کے یہ نظارے سب نے دیکھے ہیں۔
افریقہ ایشیا میں اچھے حکمرانوں کے لئے تاریخ نے ایسے پُر جوش ہجوم بھی دکھائے ہیں جب کسی نے دشمن سے شکست کھانے پر استعفیٰ کا اعلان کیا تو پورا مصر سڑکوں پر آگیا۔ استعفیٰ واپس لینا پڑا۔ اصل حکومت دلوں پر ہوتی ہے۔
اس وقت ایک اہم جغرافیائی حیثیت رکھنے والی، پانچ سے دس ہزار سال پرانی تہذیب کے آثار کی حامل جیتے جاگتے 22 کروڑ انسانوں کو آغوش میں لینے والی مملکت بحران سے دوچار ہے۔ یہ بحران عمودی بھی ہے۔ افقی بھی۔ سیاسی بھی اخلاقی بھی۔ اقتصادی اور انتظامی بھی۔ ایسے بحران ہی ریاست کو ناکامی کے قریب لے جاتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ ہمارے حکمران معاملات پر قابو پانے کی اہلیت نہیں رکھتے۔ لیکن وہ کسی مداخلت، کسی خوف اور کسی وہم کی بنا پر درست فیصلے نہیں کرپارہے جو وقت کا تقاضا ہے۔ یوں سمجھ لیجئے کہ ان میں بہت سے پی ایچ ڈی تک کرچکے ہیں مگر وہ کام صرف اپنے میٹرک کے علم سے لے رہے ہیں۔
ریاست کو افراد نہیں ادارے کامیاب بناتے ہیں ۔اپنے ہم وطنوں کی زندگی میں خوشحالی لے کر آتے ہیں۔ قانون کی حکمرانی کوترجیح دیتے ہیں۔قانون سب کیلئے ایک سا ہوتا ہے مگر ہمارے ہاں ریاست کے اندر ریاستیں ہیں۔ اداروں کے اندر ادارے ہیں۔ ایسی حالت میں شخصیات اداروں پر غالب آجاتی ہیں۔ ان کی اَنا انہیں اپنا غلام بنالیتی ہے۔ تکبر اور غرور ان کی صلاحیتیں جکڑ لیتا ہے۔ پھر اسی نشے میں غلط اقدامات ہوجاتے ہیں۔قومیں ان افراد کی لمحوں کی خطا کی سزا برسوں بھگتتی ہیں۔ ابھی ہم 16دسمبر 1971کی خطا کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ ان دنوں بھی ایک شخص ادارے پر حاوی ہوگیا تھا۔ پھر ہم جولائی 1977اور اپریل 1979کی خطائوں کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ جب ایک فرد ادارے پر برتری حاصل کرچکا تھا۔ تہذیب۔ مروت۔ آئین۔ قانون سب کو روند رہا تھا۔
آفریں ہے، اس عظیم مملکت کے سمندر، پہاڑوں، دریائوں، زرخیز زمینوں، زیر خاک چھپے سونے تانبے اور قیمتی دھاتوں کے خزانوں پر، صدیوں کی تہذیب اور تمدن کے آثار پر اور شاباش اس رنگا رنگ قومیتوں پر مشتمل ریاست کے غریب، نادار، بے بہرہ مگر غیرت مند کروڑوں پر جو پیٹ پر پتھر باندھتے ہیں۔ دال روٹی پر گزارہ کرتے ہیں۔ غربت کی لکیر سے نیچے بے حساب مصائب اور آلام کا سامنا کرتے ہیں مگر وہ اپنے وطن کی سا لمیت کا شعور رکھتے ہیں۔ جمہوری بالادستی ان کے ایمان کا حصّہ ہے۔ ملک پر وقت آتا ہے تو سیسہ پلائی دیوار بن جاتے ہیں۔ دوسرے ملکوں کی پروازیں نہیں پکڑتے۔ جب سرحدوں پر دشمن کی یلغار ہوتی ہے تو وہ جمہوریت محرومیوں، حبس بے جا، تشدد اورکپڑے اتارنے کو بھول کر دوسری دفاعی دیوار بن جاتے ہیں۔ وردی پر پھول نچھاور کرتے ہیں۔
ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
ان ہی عوام کو جب یہ سنہری موقع ملتا ہے کہ وہ اپنی پسند کے حکمرانوں کا انتخاب کریں اور انہیں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے امکانات میسر ہوں تو وہ تمام مظالم کی مزاحمت کرتے ہوئے اپنے محبوب قائد کو اپنی طرف سے مینڈیٹ دیتے ہیں اور اپنے ووٹ کی طاقت سے پاکستان کو ایک کامیاب ملک بناکر رہیں گے۔
لیکن اب ظلم کی میعاد کے دن تھوڑے ہیں
اک ذرا صبر کہ فریاد کے دن تھوڑے ہیں
چند روز اور مری جان فقط چند ہی روز









