خلاف قانون شادی کرنے پر شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، سندھ ہائیکورٹ

140

سندھ ہائیکورٹ کی جانب سے پسند کی شادی کرنے والی 14 سال کی لڑکی کی تحفظ کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے دارالامان لاڑکانہ منتقل کرنے کا حکم دے دیا گیا۔

سندھ ہائیکورٹ میں پسند کی شادی کرنے والی 14 سال کی لڑکی کی جانب سے دائر کی گئی تحفظ کی درخواست پر سماعت ہوئی۔

اس دوران عدالت کی جانب سے ریمارکس میں کہا گیا کہ دستاویزات کے مطابق لڑکی کی عمر 14 سال ہے، سندھ میں 18 سال سے کم عمر لڑکیوں کی شادی پر پابندی ہے۔

دوران سماعت عدالت کا کہنا تھا کہ خلاف قانون شادی کرنے پر شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

عدالت کی جانب سے لڑکی سے استفسار کیا گیا کہ والدین کے ساتھ جانا چاہتی ہیں یا پھر دار الامان؟ جس پر لڑکی نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ مجھے والدین کے ساتھ نہیں جانا دار الامان بھیجا جائے۔

عدالت کی جانب سے لڑکی سے کہا گیا کہ اگر والدین کے سا تھ جانا چاہتی ہیں تو ہم حکم دیں گے آپ کو نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔

سماعت کے دوران سندھ ہائیکورٹ میں لڑکی کے والدین اور رشتے دار بھی عدالت پہنچ گئے تھے۔

واضح رہے کہ لاڑکانہ کی کم عمر لڑکی نے کچھ عرصہ قبل اپنے ٹیچر نور بنی سے پسند کی شادی کی تھی، لڑکی کی جانب سے تحفظ کے لیے عدالت سے رجوع کیا گیا تھا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں