فرانسیسی صحافی نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کو بھارت میں اقلیتو ں خصوصی طورپر مسلمانوں کیساتھ انسانیت سوز واقعات پر آواز اٹھانے کی پاداش میں دفاتر بند کرنے پر مجبور کیا گیا ہے۔
صحافی نے اپنی رپورٹ میںکہاکہ 2014ء میں مودی سرکار کے برسراقتدار آنے کے بعد این جی اوز کی تعداد کم ہوگئی ہے، 13ہزار سے زائد این جی اوز کے لائسنس معطل کر دیئے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق انسانی حقوق اور ماحولیاتی کارکنوں کو گینگ اور مافیا کا سامنا ہے، 2018ء سے اب تک این جی اوز کے 30کارکنان کو قتل کیا جاچکا ہے۔
صحافی نے رپورٹ میں مزید بتایا کہ ماہرین تعلیم، ادیب ، صحافی ، کارکن ، فنکار بھارت میں کوئی بھی استثنیٰ نہیں رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کو بھارت میں اقلیتوں ، خصوصی طورپر مسلمانوں کیساتھ انسانیت سوز واقعات رپورٹ کرنے کی پاداش میں دفاتر بند کرنے پر مجبور کیا گیا۔









