چارسدہ: ڈھائی سالہ زینب سے زیادتی و قتل، 15 افراد زیرِ حراست

چارسدہ: ڈھائی سالہ زینب سے زیادتی و قتل، 15 افراد زیرِ حراست 58

خیبر پختون خوا کے ضلع چارسدہ میں ڈھائی سال کی بچی زینب کے اغواء، مبینہ زیادتی اور قتل کے شبہے میں علاقے سے مزید 7 افراد کو حراست میں لے لیا گیا جبکہ اب تک 15 افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔

تحقیقاتی ٹیم کا کہنا ہے کہ بچی کی ڈین این اے رپورٹ اب تک موصول نہیں ہوئی، ملزم کے بالوں کے نمونے ملے ہیں۔

بچی زینب کو منگل کو اغواء کیا گیا تھا، اگلے روز اس کی لاش کھیتوں سے ملی تھی۔

’جیو نیوز‘ کے پروگرام ’جیو پاکستان‘ میں گفتگو کرتے ہوئے آئی جی خیبر پختون خوا ثناء اللّٰہ عباسی نے کہا ہے کہ چارسدہ میں معصوم بچی زینب کے قتل کا کیس ایک بلائنڈ کیس ہے، جس کی تفتیش کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایسے کیسز کی تفتیش اسپیشل ٹیم کرتی ہے، بچوں سے زیادتی کی روک تھام میں والدین، ٹیچرز اور سوسائٹی کو کردار ادا کرنا ہو گا۔

دوسری جانب وزیرِمملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے چارسدہ میں معصوم زینب کے گھر جا کر اس کے والد سے تعزیت کی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی محمد خان نے کہا کہ جب تک ریپ کے ملزمان کو چوک پر نہیں لٹکاتے ایسے جرائم کا خاتمہ نہیں ہوسکتا۔

ادھر ڈھائی سالہ زینب کو زیادتی کے بعد قتل کرنے کے خلاف چارسدہ اور پشاور میں احتجاجی مظاہرے کیئے گئے۔

مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مجرم کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے اور اسے قانون کے مطابق عبرت ناک سزا دے کر کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں