سندھ ، گیس بحران پر رواں سال بھی قابوپانا ممکن نہیں

196

اسلام آباد ( عاطف شیرازی) سندھ حکومت نےوفاق کے اصرار پر سترہ کلومیٹر ایل این جی پائپ لائن کی اجازت دیدی مگر سندھ میں گیس کےمبینہ بحران پر رواں سال بھی قابوپانا ممکن نہیں ہوگا کیونکہ سترہ کلو میٹر پائپ لائن بچھانےکےمنصوبہ پر دو سال لگ سکتے ہیں ۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ سندھ حکومت نے پورٹ قاسم سے پارک لینڈ تک 17 کلومیٹر 32 انچ قطر کی ایل این جی لائن کا این او سی جاری کر دیا ہے مگر پیٹرولیم ڈویژن ایل این جی کی مذکورہ پائپ لائن کو رواں سردیوں میں نہیں ڈال سکے گا،اس پائپ لائن کے فنڈز ابھی تک جاری نہیں ہوئے اور ڈیزائن بھی تیار نہیں ہے جبکہ پائپ لائن کے ٹینڈر کا ہونا ابھی بھی باقی ہے جس میں کم از کم دو سے تین ماہ لگیں گے، پائپ لائن سے کراچی کو ایل این جی فراہم کی جائیگی، حکومت سندھ اور کراچی کے صنعتکار ایل این جی لینے سے پہلے ہی انکار کر چکے ہیں، وزیراعظم کے معاون خصوصی پٹرولیم ندیم بابر ایل این جی کی فراہمی کو گیس بحران کا حل قرار دیتے ہیں،نئی صورتحال میں ایل این جی کی اس لائن سے فراہمی اگلے موسم گرما میں شروع ہو سکے

گی تاہم اس کیلئے ضروری ہے کہ کراچی کے صنعتکار ایل این جی لینے کو تیار ہوں ، ادھر سوئی سدر ن گیس کمپنی کے ترجمان نے رابطہ کرنے پر بتایا ہے کہ سترہ کلو میٹر ایل این جی پائپ لائن کی سندھ حکومت نے اجازت دیدی ہے مگراس کو مکمل ہونے میں دیڑھ سے دوسال لگ سکتے ہیں،یہ پورٹ قاسم سے پاک لینڈ پائپ لائن بچھنی ہے اس مقصد کیلئے ایل این جی ٹرمینل بھی لگنا ہے جس کی ٹینڈرنگ بھی ہونا باقی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں