کراچی(این این آئی)سندھ ہائیکورٹ نے صوبے میں غیرقانونی سی این جی ورکشاپس کیخلاف کارروائی کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے 23 فروری کو پیشرفت پر رپورٹ طلب کرلی۔سندھ ہائی کورٹ میں اسکول وین اور پبلک ٹرانسپورٹ میں غیرمعیاری سی این جی کٹس سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ کسی گاڑی میں غیر معیاری اور غیر تصدیق شدہ کٹس نہیں لگائی جائیں۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ سی این جی کٹس کیلئے لائسنس یافتہ ورکشاپس قائم کی جائیں۔ایچ ڈی آئی کے نمائندہ نے بتایا کہ ہمارے پاس جو سلنڈرز آتے ہیں انکو چیک کرلیتے ہیں۔ جس پر عدالت نے کہا پھر اس ادارے کا مقصد ہی ختم ہوگیا کیا فائدہ ایسے ادارے کا؟عدالت نے سوال کیا کہ تصدیق شدہ سلنڈرز کیسے لگیں گے؟ کوئی آئیگا نہیں تو چیک نہیں کرینگے آپ ڈی آئی جی ٹریفک کیا کررہے ہیں؟، کیا ٹریفک پولیس کا صرف یہی کام ہے ٹریفک دیکھے، ورکشاپس اور سلینڈرز کون چیک کریگا؟ ڈی آئی جی ٹریفک کے نمائندے نے عدالت کو بتایا کہ ہمارا کام صرف ٹریفک کنٹرول کرنا ہے۔
سندھ ہائیکورٹ، غیرقانونی CNG ورکشاپس کیخلاف کارروائی کاحکم
183









