ملکہ الزبتھ دوم کی جانب سے میگھن مارکل کے حالیہ انٹرویو میں لگائے شاہی خاندان پر نسل پرستی کے الزامات کے بعد پرنس چارلس، دی ڈیوک آ ف کیمبرج، پوتے اور شہزادہ ولیم اور دی ڈچز آف کیمبرج کیتھرین مڈلٹن کی سخت سرزنش کا عندیہ دیا گیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا ’ دی سن ‘ کے مطابق برطانیہ کے اعلیٰ عہدیداران نسل پرستی سے متعلق لگائے گئے الزامات پر ذاتی حیثیت میں شاہی خاندان کے سنیئر افراد کا احتساب کریں گے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق شاہی خاندان کے سب ہی خود مختار اور سنیئر افراد سے الزامات سے متعلق پوچھ گچھ کی جائے گی جن میں شاہی خاندان کے وارث بھی شامل ہوں گے جبکہ پرنس چارلس بھی نسل پرستی سے متعلق الزامات پر گہری تشویش میں مبتلا ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ سب ہی الزامات پرنس آف ویلز چارلس کی سوچ کےخلاف ہیں، پرنس چارلس سمجھتے ہیں کہ مخلتف نسل کے لوگ ہی اُن کے معاشرے کی طاقت ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ان الزامات کے سبب ملکہ کی جانب سے پرنس ہیری کے بڑے بھائی پرنس ولیم اور کیٹ مڈلٹن کی بھی سخت سرزنش کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب شاہی تبصرہ نگار فیل ڈیمپیئر کا کہنا ہے کہ ’ملکہ الزبتھ نے شاہی افراد سے یہ بات واضح کہی ہے کہ جس نے بھی ہیری اور میگھن کے بیٹے آرچی کی رنگت اور نسل پرستی سے متعلق بات کی ہے اُس کے ساتھ سختی سے پیش آیا جائے گا۔‘









