ٹرمپ کے داماد کا بحرین اسرائیل تعلقات کا خیرمقدم

201

صدر ٹرمپ کے داماد اور مشیر جیرڈ کشنر نے بحرین کے اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے کےاعلان کو نائن الیون جیسے واقعات، انہتا پسندی اور دہشت گردی روکنے کے لیے بہترین اقدام قرار دیا۔

کشنر نے توقع ظاہر کی کہ مشرقِ وسطیٰ کے تمام ممالک اسرائیل سے تعلقات استوار کر لیں گے۔

انہوں نے کہا کہ بحرین کا اقدام خطے کے ممالک کو مسئلہ فلسطین اپنے قومی مفادات اور خارجہ پالیسی سے الگ کرنے کا موقع دے گا۔

ایوانکا ٹرمپ نے کہا ہے کہ کشنر نے پچھلے ہفتے ہی بحرین کے بادشاہ اور سعودی ولی عہد سے ملاقات کی تھی جو آج کی ڈیل کی نشاندہی کرتی ہے۔

واضح رہے کہ بحرین کی جانب سے متحدہ عرب امارات کی طرح اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کرنے کا اعلان سامنے آیا ہے، دونوں ممالک سفارتی تعلقات کے قیام سے متعلق معاہدے پر باضابطہ دستخط منگل کو کریں گے۔

ٹرمپ کا بحرین اسرائیل امن معاہدے کا اعلان، 15ستمبر کو دستخط ہونگے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بحرین کے بادشاہ حمد بن عیسیٰ الخلیفہ اور اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنجامن نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر بات کی جس کے بعد ٹوئٹ میں اعلان کیا کہ بحرین اور اسرائیل بھی امن ڈیل کے لیے متفق ہو گئے ہیں۔

30 روز میں بحرین دوسرا عرب ملک ہے جو اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے پر متفق ہوا ہے۔

امریکا، بحرین اور اسرائیل کی جانب سے جاری مشترکہ بیان کے مطابق اس اقدام سے مشرقِ وسطیٰ میں استحکام، تحفظ اور خوش حالی بڑھے گی۔

بحرین کے بادشاہ نے اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان دو ریاستی حل کی بنیاد پر دائمی امن کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

اسرائیل سے امارات اور بحرین کے سفارتی تعلقات کے قیام سے متعلق دستخطی تقریب کی میزبانی صدر ٹرمپ کریں گے۔

امارات اسرائیل تعلقات کے معاہدے پر 15 ستمبر کو دستخط ہوں گے

اسرائیل امارات تعلقات مسلم دنیا کیلئے بڑا سانحہ ہے، سراج الحق

دوسری جانب بحرین کے اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے کے اعلان کی فلسطینی اتھارٹی نے مذمت کرتے ہوئے بحرین سے احتجاجاً اپنا مندوب واپس بلا لیا ہے۔

فلسطینی اتھارٹی نے بحرین کے اقدام کو مقبوضہ بیت المقدس، مسجدِ اقصیٰ اور مسئلہ فلسطین سے غداری قرار دیا ہے۔

فلسطینی اتھارٹی کے سیکریٹری جنرل صائب اریقات نے کہا ہے کہ امارات کی طرح بحرین بھی فلسطینی عوام کے حقوق کو ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی مہم پر قربان کررہا ہے۔

عرب امارات کے اسرائیل سے تعلقات کے قیام کے اعلان پر بھی فلسطین نے سخت ردِ عمل ظاہر کیا تھا تاہم عرب لیگ نے امارات کی مذمت سے متعلق فلسطینی قرار داد منظورنہیں کی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں