کمرے کے درجہ حرارت پر زندہ سیل کی تھری ڈی پرنٹ سے ہڈی کی تخلیق ممکن

186

ایک نئی طبی اختراع کی وجہ سے سائنس دانوں کو کسی انسان کی ہڈی سے زندہ سیل کی تھری ڈی پرنٹ بنانے کا طریقہ کار معلوم کرلیا گیا ہے اور یہ عمل کمرے کے درجہ حرارت پر ممکن ہوگا۔

آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز سڈنی کی ایک ٹیم نے ایک بائیو انک جیل تخلیق کیا ہے جو کسی بھی مریض کی ہڈی سے زندہ سیل اور کیلشیئم فاسفیٹ کے محلول پر مشتمل ہے۔

واضح رہے کہ یہ وہ ضروری معدنیات ہیں جوکہ ہڈی کی بناوٹ اور اسکی نگہداشت کے لیے ضروری ہیں۔ سیل سسپنشن میں سیرامک اومنی ڈائریکشنل بائیو پرنٹنگ طریقہ کار کا استعمال کیا جاتا ہے جس کے بعد جیلی نما مادے کو جو کہ تھری ڈی پرنٹڈ ہوتا ہے اسے بجائے اسکے کہ سرجن مریض کے جسم کے کسی دوسرے حصے سے ہڈی کا ایک ٹکڑا لے، براہ راست مریض کی ہڈی کی کیویٹی میں ڈال دیا جاتا ہے۔

یہ مواد جوکہ جسم کے رطوبت میں شامل ہوتے ہی منٹوں میں سخت ہوجاتا ہے اور خود بخود ہڈی کے انتہائی باریک اجزا سے جڑ جاتا ہے۔

تھری ڈی پرنٹنگ کے اس عمل کے ذریعے ہڈی کی مصنوعی بناوٹ کا طریقہ نیا نہیں ہے، لیکن یونیورسٹی آف نیو سائوتھ ویلز سڈنی کے طریقہ کار میں جو اہم چیز ہے وہ پہلی بار یہ ممکن ہوا ہے کہ اسے کمرے کے درجہ حرارت پر تیار کیا گیا۔ اسکا مطلب یہ ہوا کہ اب ہڈی ایک میڈیل کمرے میں بشمول مریض کے اپنے زندہ سیل سے اسی جگہ پر تخلیق کی جاسکتی ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں