ایف آئی آر درج مگر تنازع برقرار

354

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے کنٹینر پر فائرنگ کا واقعہ جمعرات کی شام پیش آیا تھا جس میں وہ خود اور ان کے کئی ساتھی زخمی ہوئے تھے ۔ قاعدے کے مطابق متعلقہ تھانے میں بظاہر قاتلانہ حملے کی اس سنگین واردات کی ایف آئی آر کا اندراج فوری طور پر عمل میں آجانا چاہیے تھا کیونکہ اس کے بغیر تحقیقات شروع نہیں ہوتی جبکہ تاخیر کی وجہ سے ثبوت و شواہد کے ضائع ہوجانے کا اندیشہ بھی ہوتا ہے ۔ تاہم یہ معاملہ پراسرار طور پر مؤخر ہوتا رہا یہاں تک کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ کے اس انتباہ کے بعد کہ اگر پنجاب پولیس سابق وزیراعظم پر قاتلانہ حملے کی ایف آئی آر درج کرنے میں ناکام رہی تو وہ ازخود کارروائی شروع کرے گی، صوبائی پولیس نے بالآخر پیر کی رات تقریباً سوا گیارہ بجے دہشت گردی کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔یہ مقدمہ سب انسپکٹر عامر شہزاد کی شکایت پر انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 اور تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302، 324 اور 440 کے تحت ملزم نوید کے خلاف درج کیا گیا ہے۔ اس کے بعد عام قاعدے کے مطابق تفیش کا عمل شروع ہوجانا چاہیے لیکن ایسا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ متاثرہ فریق یعنی تحریک انصاف کے قائد کا مطالبہ ہے کہ ان پر قاتلانہ حملے کی سازش کے الزام میں وزیر اعظم شہباز شریف، وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ اور خفیہ ایجنسی کے افسر میجر جنرل فیصل نصیر کو نامزد کیا جائے اور شفاف تحقیقات کے لیے یہ تینوں شخصیات اپنے عہدوں سے مستعفی ہوجائیں۔پی ٹی آئی کے رہنما زبیر خان نیازی کی جانب سے مقدمے کے اندراج کے لیے دائر درخواست میں سینئر حکومتی اور فوجی افراد کو نامزد کیا گیا تھا۔تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری کے بقول اگر ایف آئی آر میں عمران خان کے دیے ہوئے تینوں نام شامل نہیں تو یہ ہمارے نزدیک کاغذ کا ایک بے وقعت ٹکڑا ہے۔ دوسری طرف عمران خان کے بیانات سے ان کا یہ موقف سامنے آیا ہے کہ ممکن ہے ان تین شخصیات کے ان کے قتل کی سازش میں ملوث ہونے کا خیال درست نہ ہو لیکن شفاف تحقیقات کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے عہدوں سے الگ ہوجائیں۔ایک ممتازامریکی ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں بھی وہ میزبان کی جانب سے بار بار پوچھے جانے والے اس سوال کو جواب نہیں دے سکے کہ سازش میں ان افراد کے ملوث ہونے کا ان کے پاس ثبوت کیا ہے۔اس صورت میں ان افراد سے مستعفی ہونے کا جو مطالبہ عمران خان کررہے ہیں اسے تسلیم کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ ملک کا کوئی بھی شہری کسی بھی معاملے میں اعلیٰ حکومتی اور ریاستی عہدیداروں پر شک کا اظہار کرکے ان کا استعفیٰ لینے کا اہل قرار پائے گا کیونکہ آئین کی رو سے ہر شہری کو یکساں حقوق حاصل ہیں۔لہٰذا تحریک انصاف کے قائد کی جانب سے استعفوں کا یہ مطالبہ معقولیت سے عاری دکھائی دیتا ہے۔ اب جہاں تک اس مقدمے میں وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کے شامل تفتیش کیے جانے کا تعلق ہے تو وزیر اعظم بذات خود چیف جسٹس سے درخواست کرچکے ہیں کہ فائرنگ کے اس واقعے کے حوالے سے عمران خان کے الزامات کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے تمام ججوں پر مشتمل کمیشن بنایا جائے ۔ وفاقی وزیر داخلہ بھی گزشتہ روز اپنے ایک بیان میں مقدمے میں اپنی نامزدگی اور شامل تفتیش ہونے پر مکمل آمادگی ظاہر کرچکے ہیں۔جہاں تک خفیہ ایجنسی کے افسر کی مقدمے میں نامزدگی کا معاملہ ہے تو اگر اس میں کوئی آئینی اور قانونی رکاوٹ نہیں تو اسے تسلیم کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ بظاہر قابل فہم نہیں۔ مقدمے کی ایف آئی آر پر تنازع اسی صورت میں ختم ہوسکتا اور تحقیقات کی راہ ہموار ہوسکتی ہے کہ مدعی کا جومطالبہ آئین اور قانون سے ماوراء نہیں اسے تسلیم کیا جائے اور شفاف عدالتی تحقیقات کے ذریعے حقائق قوم کے سامنے لے آئے جائیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں