سود سے پاک بینکاری

355

وفاقی حکومت کا سود سے پاک بینکاری نظام لانے کا فیصلہ یقیناً بڑا اور قابل تحسین ہے اور توقع کی جانی چاہئے کہ ماضی کی بعض حکومتوں کی طرح اسے سیاسی نعرے کے طور پر اختیار کرنے سے نہ صرف اجتناب برتا جائے گا بلکہ معاشی پالیسیوں، فیصلوں اور اقدامات میں اسلامی معیشت کے اس خاص پہلو کو اولین ترجیح حاصل ہوگی جو معاشرے کو استحصال سے پاک کرنے، کمزوروں کو سہارا دینے اور ارتکاز زر کو روکنے پر زور دیتا ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بدھ کے روز پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ وفاقی شرعی عدالت کے اپریل کے فیصلے کے خلاف اسٹیٹ بینک اور نیشنل بینک کی اپیل درخواستیں چند روز میں واپس لے لی جائیں گی۔ وفاقی شریعت کورٹ نے ملک سے سود پر مبنی بینکاری نظام ختم کرنے کیلئے پانچ سال کی مدت دی ہے۔ فیڈرل شریعت کورٹ نے دسمبر 1991ء میں سودی بینکاری کو اس کی ہرشکل میں اسلامی تعلیمات کے منافی قرار دیتے ہوئے اس کے خاتمے کیلئے جون 1992کی ڈیڈ لائن دی تھی مگر حکومت سپریم کورٹ میں اپیل لے کر پہنچ گئی تھی جس میں بیان کردہ وجوہ میں پورے بینکاری نظام کی تبدیلی اور خطرات کے تدارک کیلئے وقت کی کمی کا عذر بھی شامل تھا۔ یہ معاملہ چلتا رہا اور اس پر عملدرآمد معطل رہا۔ اس برس 25اپریل کو فیڈرل شریعت کورٹ نے اس بات کا نوٹس لیا کہ 1991سے اب تک کافی وقت گزر چکا ہے اور ملکی بینکاری اور قومی معیشت میں اسلامی اصولوں کے مطابق تبدیلی لانے کا کام نہیں ہوسکا۔ وفاقی شریعت عدالت کے حتمی فیصلے کے بموجب ملک کو سود سے پاک بنانے کیلئے اب 31دسمبر 2027 تک کا وقت ہے جس میں ڈھانچہ جاتی اور طریق کار کی اصلاحات کیلئے بہت کچھ کیا جا سکتا ہے۔ جبکہ وزیر خزانہ کے بموجب ملکی معاشی نظام کو اسلامی تعلیمات کے سانچے میں ڈھالنے کیلئے 2013ء سے 2018ء کے درمیان اس وقت کی حکومت نے کافی کام کیا تھا۔ یہ بات مدنظر رکھنے کی ہے کہ اسلام میں سود کو حرام ہی نہیں اللہ سے جنگ کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔ عالمی نظام زر میں پائی گئی متعدد پیچیدگیوں کے باوجود اس باب میں فیصلے کرنے میں پاکستان بننے کے بعد 75 برس کا طویل وقت ضائع نہیں ہونا چاہئے تھا مگر اب جبکہ دنیا بھر میں سود سے پاک بینکاری کے فوائد تسلیم کئے جا رہے ہیں اور متعدد ممالک میں بلاسود بینکاری پسند کی جا رہی ہے، ہمیں قرض دینے والے ملکوں اور مالیاتی اداروں سے نفع نقصان میں شراکت کی بنیاد پر مالی وفنی اعانت لینے کے لئے کوئی قابل عمل راہ اپنانے میں شاید زیادہ مشکل نہ پیش آئے۔ اس باب میں او آئی سی کی سطح پر مسلم ممالک کے ساتھ مل کر بھی بعض انتظامات کئے جا سکتے ہیں۔ اسلامی نظام معیشت کے واقفین کا کہنا ہے کہ سود انسانی استحصال اور ارتکاز زر کا ذریعہ جبکہ تجارت معاشی سرگرمی اور پیداواریت کا ذریعہ ہے۔ مضاربت کے ذریعے ایک فریق کے سرمائے اور دوسرے کی محنت یا مہارت کو یکجا کر کے فریقین کے فائدے اور پیداواریت بڑھانے کا جو اہتمام کیا گیا ہے اس کے اندرون ملک بینکاری و لین دین اور بیرونی معاہدوں میں اطلاق پر ماہرین کو کام کرنا چاہئے جبکہ غربت دور کرنے اور فلاحی اقدامات موثر بنانے کیلئے زکوٰۃ، خیرات، صدقات کے اداروں کو زیادہ منظم بنانے کی ضرورت ہے۔ ہر یونین کمیٹی میں محلہ وار ایسی کمیٹیاں بنانے کا جائزہ لیا جانا چاہئے جو اس بات کا خیال رکھیں کہ کوئی شخص بھوکا نہ سوئے۔ بیروزگاروں، بیوائوں، مسکینوں، پنشنروں، دیکھ بھال سے محروم لوگوں کی فلاح و بہبود بھی مسلم حکومت اور معاشرے کی ذمہ داری ہے جس پر سنجیدہ توجہ دی جانی چاہئے۔ اس کیلئے استحصال و بدعنوانی کے راستے بند کرنے اور حقدار تک اس کا حق پہنچانے کی مؤثر تدابیر ضروری ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں